نیب ترمیمی آرڈیننس پانامہ لیکس سے بدترین سکینڈل ہے،صدارتی محل کے چور دروازے سے آرڈیننس لاکر وزیراعظم اپنے دوستوں کو نیب سے استثنیٰ دلوا رہے ہیں: ڈاکٹر نفیسہ شاہ


اسلام آباد:پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ صدارتی محل کے چور دروازے سے آرڈیننس لاکر وزیراعظم اپنے دوستوں کو نیب سے استثنیٰ دلوا رہے ہیں،ہم اس کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج کریں گے،اگر یہ آرڈیننس ضروری تھا تو چور دروازے سے کیوں لایا گیا،نیب کیلئے ایسا قانون بنایا جائے،جس میں تمام جماعتوں کی مشاورت شامل ہو،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیراعظم ان دوستوں کے نام بھی بتائیں جن کیلئے نیب آرڈیننس لایا گیا،یہ پانامہ لیکس سے بدترین سکینڈل ہے،بی آئی ایس پی سے 8لاکھ20ہزار لوگوں کو نکال کر اپنے لوگوں کو شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،احتساب میں پہلے افواج اور عدلیہ کو شامل نہیں کیا گیا تھا،اب سرکاری ملازمین اور بزنس مینوں کو بھی استثنیٰ دے دیا گیا ہے،صرف سیاستدانوں کا احتساب ہوگا،سیاسی یتیم عقل کے اندھے نہیں بلکہ آنکھوں کے بھی اندھے ہیں جنہیں لیاقت باغ کا تاریخی جلسہ نظر نہیں آتا،وزیراعظم کراچی صوبائی حکومت کو کمزور کرنے اور اپنے اتحادیوں کو راضی کرنے کیلئے جاتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ،سینیٹر روبینہ خالد،عاجز دھامڑا،نوابزادہ افتخار اور نذیر ڈھوکی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ لیاقت باغ کے جلسے میں پورے پاکستان سے لوگ آئے تھے،پیپلزپارٹی عوام کا پروگرام لیکر گلی گلی جاتی ہے،بی آئی ایس پی سے کمپیوٹر کے ایک کلک سے 8لاکھ20ہزار لوگوں کو نکال کر ان کی جگہ اپنے لوگوں کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے دوستوں کی مشکل آسان کرنے کیلئے نیب آرڈیننس لاکر پانامہ سے بدترین سکینڈل سامنے لایا گیا ہے،پاکستان میں ایک کروڑ لوگ غربت سے نیچے آچکے ہیں،ہم سمجھتے تھے کہ ثانیہ نشتر بی آئی ایس پی میں لوگوں کی تعداد بڑھا کر 50لاکھ سے60لاکھ کرے گی،لیکن انہوں نے 8لاکھ20ہزار لوگوں کو بی آئی ایس پی کے پروگرام سے نکال دیا ہے۔جن لوگوں کو کوئی اور حج اورعمرے پر بھیجواتا ہے ان کا ڈیٹا لیکر ان کو اس پروگرام سے نکالا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ احتساب اب صرف سیاستدانوں کا ہو رہا ہے،پہلے اس میں افواج اور عدلیہ کو شامل نہیں کیا گیا تھا اب سرکاری ملازمین اور بزنس مینوں کو بھی نکال دیا گیا ہے،وزیراعظم صدارتی محل کے چور دروازے سے آرڈیننس لاکر مالم جبہ اور بی آر ٹی میں ملوث لوگوں کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تاریخی یوٹرن لئے ہیں،ہم اس قانون کے خلاف پارلیمنٹ میں بھرپور احتجاج کریں گے۔عاجز دھامڑا نے کہا کہ بیوروکریسی اور بزنس مین کی کسی اور سے ملاقات میں شکوہ کیا ،جس پر سلیکٹڈ وزیراعظم نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ان کو استثنیٰ دیا۔صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا جارہا،حکومت کے چند وزراءاپوزیشن کو گالیاں دے رہے ہیں،وزیراعظم کراچی صوبائی حکومت کو کمزور کرنے اور اپنے اتحادیوں کو راضی کرنے کیلئے جاتے ہیں۔روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی سے غریب لوگوں کو نکال کر پی ٹی آئی اپنے لوگ شامل کر رہی ہے،یہ غریبوں کے ساتھ زیادتی ہے،خیبرپختونخوا سے جیالے 3000گاڑیاں لے کر لیاقت باغ پہنچے،انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔نوابزادہ افتخار نے کہا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان میں بڑے بڑے جلسے کئے لیکن یہ سنٹرل پنجاب کا پہلا بڑا جلسہ تھا،جس میں جیالوں نے بھرپور طریقے سے شرکت کی،وزیراعظم اپنے لوگوں کو این آر او دینے کیلئے نیب آرڈیننس لائے،100کے قریب وزیر مشیر ایسے ہیں جن کا کام صرف سابق حکومت کو کرپٹ ثابت کرنا ہوتا ہے۔نذیر ڈھوکی نے کہا کہ سیاسی یتیم نہ صرف عقل کے اندھے ہیں بلکہ آنکھوں سے بھی اندھے ہیں جنہیں لیاقت باغ کاجلسہ نظر نہیں آتا،پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین کی سیاست کا معیار کچھ اور ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply

Please Login to comment
  Subscribe  
Notify of
%d bloggers like this: