کراچی میں ترقیاتی منصوبے، متحدہ کے وفاقی حکومت سے شکوے اور بلاول بھٹو کی الائنس کی پیشکش

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دو پُلوں، ایک انڈر پاس اور کینٹ اسٹیشن کے گردونواح سڑکوں کا افتتاح کیا جبکہ ملیر ایکسپریس وے اور ملیر ندی پر ایک اور پل پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔

کراچی کے علاقے لانڈھی اور کورنگی میں چار ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے متحدہ قومی موومنٹ کو وفاق سے اتحاد ختم کر کے، پیپلز پارٹی سے الائنس کرنے اور سندھ میں وزارتیں دینے کی پیشکش کی ہے۔ گزشتہ روز حکومت سندھ کی جانب سے کراچی میں چار میگا منصوبوں جن میں دو پل کورنگی نمبرڈھائی اور پانچ،حیدر علی روڈ انڈر پاس اور کینٹ اسٹیشن کے اطراف سڑکوں کی تعمیر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت کے تمام اتحادیوں کو پاکستان بچانے کیلئے آج نہیں تو کل یہ فیصلہ کرنا پڑے گا، کراچی کے عوام کو عمران خان نے دھوکہ دیا، ان کا نعرہ جھوٹا نکلا،2020ء کے انتخابات میں لوگ یوٹرن لینگے اور پیپلزپارٹی کیساتھ ہونگے۔

وفاقی حکومت کی عوام دشمن پالیسیاں چل رہی ہیں، ہمیں وفاق سے اپنا حصہ چھیننا پڑیگا، ملک کے عوام کو بہت مشکلات کا سامنا ہے، معاشی صورتحال بہت خطرناک ہے، غریب اور سفید پوش افراد کی مشکلات دن بدن بڑھ رہی ہیں، شہید بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ لوگ نکالے جا رہے ہیں، میں سندھ حکومت سے کہوں گا کہ وہ اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کرے۔

کراچی پر ڈھائے جانے والے مظالم کا مقابلہ مل کر کرنا ہوگا، سلیکٹڈ کو گھر بھیجنا ہوگا، اتحاد توڑنا ہوگا، کراچی کو بچانا ہوگا اور اس نیک عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی سو فیصد ساتھ دے گی۔

وفاقی حکومت کی گیس پالیسی کی مذمت کرتے ہیں، جہاں گیس پیدا ہو رہی ہے وہاں سے یہ چھینی جا رہی ہے، وفاقی حکومت کو اس پالیسی کو فوری واپس لینا ہو گا، این ایف سی ایوارڈ میں ہمارا حق نہیں مل رہا، مردم شماری کیخلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کراچی کو تمام بنیادی حقوق دینے کے لیے رات دن کوشاں ہے۔ ہماری تاریخ رہی ہے کہ ہم ہمیشہ مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے تھے، کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے وفاقی وزراء جو وفاق دشمن پالیسیاں بنا رہے ہیں ان سے فوری استعفیٰ لینا ہوگا، حکومت سندھ معاشی حالات مشکل ہونے کے باوجود محنت کر رہی ہے خاص کر کراچی میں بہت کام کر رہی ہے، مکمل ہونے والے سات منصوبوں کا پہلے افتتاح کر چکا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ‘وفاقی حکومت کو فوری طور پر اس پالیسی کو واپس لینا ہوگا جبکہ جو وزیر اس معاملے پر بیانات دے رہے ہیں ان سے فوری استعفیٰ لینا چاہیے۔‘خطاب کے دوران انھوں نے وسیم اختر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارے پرانے ساتھیوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ جو ظلم کراچی کے ساتھ ہو رہا ہے اسے روکا جاسکتا ہے، وفاقی حکومت سے اتحاد کو ختم کریں اور عمران کی حکومت کو گرا دیں۔‘انھوں نے کہا کہ ‘کراچی کے عوام کو معلوم ہے کہ عمران خان نے انھیں دھوکہ دیا ہے، ان کا ہر وعدہ جھوٹا نکلا ہے اور 2020 میں جب انتخابات ہوں گے تو یہ عوام عمران خان کے حوالے سے یو ٹرن ہی لیں گے۔’ترقیاتی منصوبوں کو پارٹی کارکنوں کے نام منسوب کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت مشکل معاشی حالات کے باوجود پورے صوبے میں کام کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ کراچی میں ترقی ہو کیونکہ یہاں پورے پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگ آ کر بستے ہیں لیکن سندھ کو ضرورت کے مطابق وسائل نہیں دیے جاتے ہیں جس کے لیے ہمیں وفاق سے اپنا حصہ چھیننا پڑے گا۔‘  ہم چاہتے ہیں کہ کراچی ترقی کرے، یہ نہ صرف میگا سٹی ہے، پورے ملک کے لوگ یہاں بستے ہیں، جتنی ڈیمانڈ یہاں ہے اس کے لئے ہمیں وفاق سے اپنا حصہ لینا پڑیگا۔

غریب عورتوں سے ایک ہزار روپے چھیننے والوں پر لعنت! کسی بھی سروے کے بغیر وفاقی حکومت کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ خواتین کا نام نکالنا ظلم و زیادتی ہے! پاکستان پیپلز پارٹی اس کی سخت الفاظ میں مزمت کرتی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کیلئے ہم سندھ حکومت کا ساتھ دینگے۔ وسیم اختر نے مزید کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کیلئے ہر ایک کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ’کراچی کے معاملے میں پی ٹی آئی سے اتحاد سود مند ثابت نہیں ہوا‘ اور وہ حکمران جماعت کی کراچی میں کارکردگی سے مایوس ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے متحدہ قومی موومنٹ کو وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت کا ساتھ چھوڑ کر سندھ میں پی پی کی حکومت کے ساتھ کراچی کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کرنے اور وزارتیں لینے کی دعوت اور اس پر متحدہ سے تعلق رکھنے والے کراچی کے میئر وسیم اختر کی جانب سے وفاقی حکومت سے شکایتوں کا انبار لگانے کے بعد اب یہ حقیقت ایک بار پھر بڑی واضع طور پر سامنے آئی ہے کہ تحریک انصاف کی سلیکیٹیڈ حکومت انتہائی کمزور ہے، اور اتحادی اس غیرسنجیدہ اور عوام دشمن حکومت سے سخت ناراض ہیں۔

میڈیا کی کئی رپورٹس کے مطابق ایم کیو ایم کافی عرصے سے اس پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے کہ  پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت سے راستہ جُدا کرلیا جائے، اور نئی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ایم کیو ایم کے اندر بھی اب یہ مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کہ وفاقی حکومت سے اتحاد کو ختم کیا جائے کیونکہ اس کا براہ راست اثر ایم کیو ایم کے ووٹر پر پڑرہا ہے۔  پی ٹی آئی کی حکومت نے ایم کیو ایم سے ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔ کئی موقعوں پر متحدہ کے رہنما کہہ چکے ہیں کہ اگر ہم سے کئے گئے وعدے پورے نہ کئے تو ایم کیو ایم حکومت سے الگ ہو جائے گی۔

چئیرمین بلاول کی یہ پیشکش الائنس کی پیش کش ہے، اس کو ہارس ٹریڈنگ یا فارورڈ بلاک بنانے سے تعبیر نہیں کرنا چاہیئے۔ حکومت سازی کے لئےسیاسی جماعتوں کا الائنس ہوتا ہے، الائنس کی دعوت دی جاتی ہے۔ یہ ایک جمہوری عمل اور پارلیمانی روایات کا حصہ ہے۔ وفاقی حکومت کی اتحادی جماعتیں ان سے ناراض ہیں اور کارکردگی سے سخت نالاں کچھ عرصہ قبل حکومت کی ایک اوراتحادی جی ڈی اے نے بھی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے ساتھ مفاہمت پرنظرثانی کرنے کا عندیہ  دیا تھا۔ اس تناظر میں اور کراچی کی ترقی کی خاطر ایم کیو ایم کو الائنس کی دعوت دی گئی ہے۔ 

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply

Please Login to comment
  Subscribe  
Notify of
%d bloggers like this: