ایک پاکستان میں دو قانون نہیں ہوسکتے، وزیراعظم کے وعدے کے باوجود آئی جی سندھ نہیں بدلا گیا: بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کا دھرنا جمہوریت اور ہمارا دھرنا غداری؟ ایک پاکستان میں دو قانون نہیں ہو سکتے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں جو قانون پنجاب اور خیبرپختونخوا میں لاگو کرتے ہیں اسی کے مطابق سندھ میں بھی چلیں، بھیجے گئے پانچ ناموں میں سے آئی جی سندھ تعینات کیا جائے۔

جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔

آٹا کا بحران ہے اس پر اسمبلی کا اجلاس نہیں بلایا گیاصرف اس لئے بلایا گیا تاکہ حکومت آرڈیننس پیش کرے، اس حکومت کے طریقہ کار میں جمہوریت نہیں ہے یہ پارلیمنٹ کو بے اختیار بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کو جو نام دیئے وہ سینیارٹی کی بنیاد پر بھیجے گئے ہیں، ہم نے ذاتی ترجیح کی بنیاد پر کوئی نام نہیں بھیجا۔ پیپلزپارٹی رہنما کا کہنا تھا صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر ہمیں جواب دینا پڑتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک وزیر کا فون نہ اٹھانے پر آئی جی اسلام آباد کو ہٹا دیا گیا، پنجاب کا آئی جی 15 دن میں تبدیل کردیا گیا لیکن سندھ کا آئی کیوں تبدیل نہیں ہو رہا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ایک نام پر سمجھوتہ ہونے کے باوجود وفاق نے آئی جی سندھ تبدیل نہیں کیا جو میرے صوبے کیساتھ زیادتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب سے حکومت آئی ہے وہ اپوزیشن کی چھوٹی سی بھی تنقید برداشت نہیں کرسکی ،حکومت کا دھرنا جمہوریت اور ہمارا دھرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عام آدمی کا اس ملک میں رہنا مشکل ہوگیا ہے، مہنگائی کے باعث عوام کا معاشی قتل کیا جارہا ہے، ارب پتیوں کے لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم اور غریبوں پر ٹیکسز کا بوجھ رکھ دیا گیا ہے، حکومت جس طرح اپنی معاشی پالیسی چلا رہی ہے اس سے سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے، ہرچیز کرکٹ میچ نہیں ہوتا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت جس طرح اپنی معاشی پالیسی چلا رہی ہے اس سے سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے، اسلام آباد کا آئی جی گھر بھیج دیا گیا، خیبر پختون خوا میں بھی آئی جی 24 گھنٹوں میں تبدیل ہوجاتا ہے لیکن سندھ میں آئی جیز کی تبدیلی کے لیے ہم 5 نام دیتے ہیں اور آئی جی تبدیل نہیں ہوتا، آئی جی سندھ کے معاملے سے لگتا ہے کہ وفاق نہیں چاہتا کہ سندھ میں کوئی اچھا کام ہو، جو قانون پنجاب، اسلام آباد اور کے پی میں چلاتے ہیں وہی قانون سندھ میں بھی لاگو کیا جائے، ایک پاکستان میں دو قوانین نہیں چل سکتے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ آج پھر پارلیمان کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی، قومی اسمبلی کا اجلاس روٹین سے ہٹ کر بلایا گیا، بے روزگاری اور مہنگائی پر بولنے کے لیے نہیں بلکہ آرڈیننس پیش کرنے کے لیے بلایا گیا، پارلیمنٹ کو آرڈیننس فیکٹری بنا دیا گیا ہے، پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے قانون منظور ہوتے ہیں لیکن موجودہ حکومت پارلیمان کو بے اختیار بنانا چاہتی ہے، فاٹا کے عوام دہشت گردی کا شکار ہیں لیکن ان کے اراکین کو پارلیمان میں بولنے نہیں دیا جاتا، ہم نے اپنے دور میں فاٹا کے لیے سب سے زیادہ پیسہ رکھا، ہمارامطالبہ ہےکہ آئی ڈی پیز کا مسئلہ حل کرنا چاہیے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply

Please Login to comment
  Subscribe  
Notify of
%d bloggers like this: