شہزاد اکبر اور وفاقی حکومت وزیراعظم کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں: بیرسٹر مرتضیٰ وہاب

ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو انکوائری کمیشن کے سامنے نہیں بلایا گیا، کسی نہ کسی کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے، شہزاد اکبر اور وفاقی حکومت وزیراعظم کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر مرتضی وہاب نے پریس کانفرنس کے دوران چینی بحران رپورٹ پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گو کہ کورونا وائرس کی صورتحال خطرناک اور تشویشناک ہے، بے بنیاد الزامات کا اگر جواب نہ دیا جائے تو ناقدین کہتے ہیں یہ کیوں خاموش ہیں، چینی اسکینڈل میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پی پی قیادت اس میں ملوث ہے جبکہ چینی بحران پر براہ راست وزیراعظم عمران خان زمہ دار ہیں۔


مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ چینی اسکینڈل انکوائری رپورٹ پر سوالات کا اب تک وفاقی حکومت سے جواب نہیں ملا، کئی روز گزرنے کے باوجود ان کی طرف سے جواب نہیں آیا، انکوائری رپورٹ کہتی ہے کہ چینی بحران کی وجہ ایکسپورٹ ہے جبکہ چینی ایکسپورٹ کی اجازت وفاقی حکومت نے دی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزارت تجارت نے چینی ایکسپورٹ کرنے کی سفارش کی، چینی ایکسپورٹ کی وزیراعظم عمران خان نے منظوری دی اس کے بعد وفاقی کابینہ سے منظوری لی گئی، معاون خصوصی برائے احتساب اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے چینی ایکسپورٹ کی اجازت دی تھی۔


مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں کہ ہم سے ماضی کا حساب لیں گے، کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف گیارہ ماہ چینی بحران سے 40.5 ارب روپے لوگوں نے کمائے، یہ کہتے ہیں کہ 26 ارب روپے کا جواب لیں گے پہلے یہ سوال تو کریں ۔

اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے سوال نہیں پوچھا جاتا کیونکہ ان کا تعلق پیپلزپارٹی سے نہیں ہے، 22 ماہ میں انہوں نے ثابت کردیا کہ ایک نہیں دو پاکستان ہیں، اپوزیشن کے لیے الگ اور ان کےلیے الگ پاکستان ہے۔


بیرسٹر مرتضی وہاب کا مزید کہنا تھا کہ یہ پی ٹی آئی والےایک نہیں دو پاکستان پر یقین رکھتے ہیں، ایک پاکستان میں اپوزیشن کو بغیر تحقیق کے گرفتار کرلیا جائے اور حکومتی ارکان کو الزام ثابت ہونے پر بھی رعایت دی جاتی ہے۔

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں نے سابق صدر آصف علی زرداری پر 16 شوگر ملز ہونے کا الزام عائد کیا، اپوزیشن لیڈر شمیم نقوی کہتے ہیں کہ آصف زرداری کے 18 شوگر ملز ہیں یہ غلط ہے، آصف زرداری نے اپنے اثاثے الیکشن کمشین میں ظاہر کردئیے ہیں ، اگر اپوزیشن لیڈر کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو وہ الیکشن کمیشن سے رجوع کرے، بے بنیاد الزامات کی نفی کرتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آصف زرداری منتخب پارلیمینٹیرین ہیں ا ن کے تمام اثاثے الیکشن کمیشن میں موجود ہیں، اومنی گروپ کی 9 شوگر ملز کا کمیشن کی رپورٹ میں زکر ہے۔

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے مسلم لیگ ن کے سیاسی رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان سے پوچھا جاسکتا ہے لیکن وزیراعظم عمران خان سے نہیں پوچھا جاتا، قانونی اعتبار سے ہم پر کیس ہی نہیں بنتا اس لیے یہ سیاسی پوائٹ اسکورنگ کے لیے پریس کانفرنس کا سہارا لیتے ہیں، اگر قانون کا راستہ اختیار کرنا پڑا تو ہم ضرور کریں گے۔


انہوں نے مزید کہا ہے کہ سندھ حکومت نے 1.3 ارب روپے اومنی گروپ کو سبسڈی دی، 1.9 ارب روپے جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کی شوگر ملز کو سبسڈی دی گئی، وزیراعلیٰ سندھ کا اس انکوائری کمیشن سے تعلق ہی نہیں، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے پی پی قیادت اور اور وزیراعلیٰ کو شامل کیا جارہا ہے ۔


اُن کا کہنا تھا کہ یہ کہہ دیں کہ وزیراعظم عمران خان نے چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت نہیں دی، یہ کہہ دیں کہ تمام باتیں غلط ہیں اور کمیشن رپورٹ بھی غلط ہے، چینی اسکینڈل میں جو قوانین ہمارے لیے ہیں وہی حکومتی وزراء اور پی ٹی آئی والوں کے لیے ہونے چاہیئں۔


پریس کانفرنس کے دوران بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کے الیکٹرک سے متعلق بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے زائد بل بھیجے کی شکایات ہیں، ہم تو صارفین کو ریلیف دینا چاہتے تھے، گورنر سندھ نے یہ رعایت وفاق کی طرف سے دینے کا کہا تھا، اور ہمارے ریلیف آرڈیننس پر اعتراض کیا تھا، یہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ اور ہیں۔

انہوں نے عالمی وبا کورونا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کو کورونا کے بڑھتے کیسز پر تشویش ہے، سندھ حکومت نے صرف پہلا لاک ڈاؤن کا فیصلہ خود کیا، دیگر لاک ڈاؤن یا نرمی کا فیصلہ وفاقی حکومت کی مشاورت سے کیے گئے، اب فیصلہ وفاق نے کرنا ہے۔

ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ کراچی کے اسپتالوں میں صورتحال خطرناک ہے، پی ٹی آئی کے مقامی رہنما غیر زمہ دارانہ ہیں، جس کی وجہ سے عوام میں کورونا کا تاثر غلط جارہا ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ کورونا وبا سے شاید حکومت اور ڈاکٹروں کو فائدہ مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ وزیرا علیٰ سندھ آج بھی قومی اقتصادی کمیٹی کے اجلاس میں پورا کیس سامنے رکھیں گے، ہمارا مؤقف یہ ہے کہ پورے پاکستان کو یک آواز ہونا ہوگا، اس کا واحد راستہ احتیاط ہے ورنہ ہم تمام کو خطرات لاحق ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply

Please Login to comment
  Subscribe  
Notify of
%d bloggers like this: