ملک بدترین بحران کا شکار، کٹھ پتلی حکومت کو گھر بھیجنے کا وقت آگیا ہے: بلاول بھٹو زرداری

گوجرانوالا : ملک بدترین بحران کا شکار،کرپشن کے خاتمے کیلئے انتقامی نہیں مساوی قانون چاہتے ہیں.ہم کرپشن کے خاتمے کے مساوی قانون چاہتے ہیں، مساوی قانون بنا کر سابق صدر اور سابق وزیر اعظم سے حساب لو، لیکن اگرکسی جنرل، جج پر کرپشن کا الزام ثابت ہوتاہے تو ان کو بھی جیل میں ڈالنا پڑے گا،

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت تاریخ کا بدترین دور دیکھ رہی ہے۔ لوگوں کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں، پاکستان جب دولخت ہوا اس وقت بھی ملک کا یہ حال نہیں تھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کیاتبدیلی یہ ہے کہ آٹا، چینی ، بجلی، ادویات، بجلی گیس بحران ہی بحران ہے،بتایا جائے وسیم اکرم پلس کوکسی جادوگرنی، یا خلائی مخلوق نے لگایا۔

انہوں نے گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی یہ ہے کہ آج پاکستان میں تاریخی مہنگائی اور تاریخی بے روزگاری او رغربت ہے، انڈے 200، ٹماٹر200، پیاز 80روپے کلو ملتے ہیں، مہنگائی کے ساتھ بے روزگاری بھی بھی بڑھ رہی ہے۔نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا، سفید پوش کا جینا حرام ہوچکا ہے، تاجروں کی دکانیں بند، فیکٹریاں بند، یہ ہے عمران خان اور سلیکٹرز کی تبدیلی ہے۔

بلاول نے کہا کہ ہم نے غریب خواتین کے انقلابی غریب سپورٹ پروگرام شروع کیا، پنشن میں 150فیصد، تنخواہوں میں 100فیصد اور فوجی سپاہیوں کی تنخواہوں میں 175فیصد اضافہ کیا تھا، یہ مہنگائی کا حل ہے، عمران خان کا حل مہنگائی ہے، ٹڈی دل ہے، کورونا ہے تو ان سب کیلئے حل ٹائیگرفورس ہے۔ عمران خان نے وعدہ کیا تھا ، پچا س لاکھ گھر دوں گا، لیکن عوام کوبے گھر کردیا، قرض نہیں لو گا،دوسالوں میں ملکی تاریخ کا تاریخی قرض لیا گیا۔

پی ڈی ایم جلسے سے خطاب میں بلاول کا کہنا تھا کہ یہ میرا گوجرانوالہ کے عوام سے مخاطب ہونے کا پہلا موقع ہے، میں یہاں کے ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی سیاسی جماعت کیلئے قربانیاں دیں اس کی وجہ سے ہی پیپلز پارٹی آج بھی زندہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تبدیلی یہ ہے آج پاکستان میں تاریخی مہنگائی اور بے روزگاری ہے۔ اشیائے ضروریہ کی چیزیں عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لے کر پھر رہے ہیں لیکن انھیں روزگار نہیں مل رہا۔ محنت کش اور مزدور کے چولہے بند ہو چکے ہیں۔ یہ عمران خان اور ان کے سیلکٹرز کی تبدیلی ہے۔ آج پاکستان میں ہر شعبہ بحران کا شکار ہے۔

تھانوں کچہریوں میں کرپشن ہی کرپشن ہے۔یہ کیسا نظام ہے کہ آصف زرداری ، نوازشریف ، فریال تالپور اور مریم پر الزام لگے تو جیل لیکن عمران خان اور علی بابا پر الزام لگے تو کوئی پوچھتا نہیں۔پی ٹی آئی کرپشن کے نام پر انتقام کرتی ہے لیکن ہم کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں اس کیلئے ایک قانون بنانا ہوگا۔پھر سابق صدر ، سابق وزیراعظم سے بھی حساب لو، لیکن اگرجنرل، جج پر کرپشن کا الزام ہے، تو ان کو بھی جیل میں ڈالنا پڑے گا، تبھی ہم ملک میں کرپشن کے ناسور کو ختم کرسکیں گے۔

پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن یہاں وسیم اکرم پلس کی حکومت ہے ، اس کو لگانے کا فیصلہ جادوگرنی نے کیا، یا خلائی مخلوق نے کیا، یہ طے ہے عوام سے پوچھا تک نہیں۔ شہبازشریف سے سو اختلافات رکھ سکتے ہیں لیکن کوئی انکار نہیں کرسکتا، کہ شہبازشریف نے میٹرو بس کھڑا کردیا، عمران خان آپ نے کیا کیا؟انہوں نے کہا کہ عوام کو معلوم نہیں کہ کشمیر پر سودا کرلیا ہے، کشمیر کا سودا نامنظور ہے.

چیئرمین پی پی نے کہا کہ یہ کیسا نظام ہے کہ اگر آصف زرداری، مریم نواز اور دیگر رہنماؤں پر الزام لگے تو سچ لیکن اگر عمران خان یا علیمہ باجی پر الزام لگے تو جھوٹ نکلے، پی ٹی آئی کرپشن کے نام پر صرف سیاسی انتقام لے رہی ہے، ان کے اپنے لوگ بھی کہہ رہے ہیں کہ پنجاب میں کرپشن بڑھ گئی، ہم کرپشن ختم کرنے کے حامی ہیں جس کے لیے آپ کو ہر پاکستان کے لیے یکساں قانون بنانا ہوگا، اگر سابق وزرائے اعظم سے کرپشن کی تفتیش کرنی ہے تو سابق جرنیلوں اور ججوں کو بھی احتساب کے دائرے میں لانا ہوگا۔
این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب کو 500 ارب روپے کم دیے گئے
بلاول نے کہا کہ اس بار این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب کو 500 ارب روپے کم ملے ہیں، اگر یہ رقم مل جاتی تو گوجرانوالہ میں کتنی ترقی آجاتی؟ یہ پنجاب کے عوام کا پیسہ ہے اسے دے کر کوئی احسان نہیں کرے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply

Please Login to comment
  Subscribe  
Notify of
%d bloggers like this: