بے نظیر بھٹو شہید، عالمی شخصیت — تحریر بشیر ریاض

27دسمبر 2007ء کی خونیں شام کو پاکستان کی ہردلعزیز سیاسی رہنما‘ سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا۔ اس خونِ ناحق اور سفاکانہ قتل پر شدید ردِ عمل ہوا‘ پورا ملک سوگوار اورزندگی مفلوج ہو گئی۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے سانحے سے پاکستان ایک عالمی مرتبہ کی راہنما سے محروم ہو گیا۔ بے نظیر بھٹو شہید پاکستان کا روشن چہرہ اور روشن مستقبل تھیں ‘انہیں عالمی سطح پر آئرن لیڈی‘ مشرق کی شہزادی‘ دخترِ اسلام اور مشرق کی بیٹی کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔
محترمہ بینظیر بھٹو شہید وفاقِ پاکستان کی علامت اور عوام کی امنگوں کا مظہر بھی تھیں ۔انہوں نے پاکستان کے طول وعرض میں سیاسی فراست‘ ذہانت اور سوجھ بوجھ کے انمٹ نقوش ثبت کیے اور وقت کے ساتھ ان کی عزت و تکریم میں بیش بہا اضافہ ہوتا چلا گیا ۔وہ ایک ایسی قومی راہنما تھیں جو پاکستان کا ایجنڈا لے کر آگے چل سکتی تھیں۔ بی بی شہید عالمی سطح کی شخصیت تھیں اور پاکستان کی نمایاں آواز تھیں ۔ وہ مفاہمت پر یقین رکھتی تھیں اور لوگوں میں فاصلے کم کرنا اور انہیں قریب لانا جانتی تھیں ۔ان کی تحریریں ان کی شخصیت کے اس پہلو کی بھر پور عکاسی کرتی ہیں۔ وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ ہر معاملے میں فاصلوں کو کم کرنا اور مثبت اندازِ فکر کو اپنانا ہی ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہے۔ ان کی مثبت سوچ کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ وہ غربت و افلاس کا خاتمہ کرکے عالمِ اسلام کو امن اور ترقی کا گہوارہ بنانا چاہتی تھیں۔
بے نظیر بھٹو شہید انسانی حقوق کی بہت بڑی علمبردار تھیں ۔ مسئلہ کشمیر ان کے دل کے بہت قریب تھا‘انہوں نے کشمیری عوام کے حقوق کے لیے ہمیشہ آواز بلند کی ۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کو کشمیریوں کی نمائندہ آواز قرار دیا اور عالمی سطح پر اسے روشناس کرایا۔اسی طرح فلسطین کے مسئلہ کو بھی انہوں نے دنیا کے ہر فورم پر اجاگر کیا۔یہی وجہ ہے کہ فلسطینی قیادت اور عوام کے دلوں میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے لیے خصوصی عزت اور مقام تھا ۔ فلسطینی عوام سے محترمہ بے نظیر بھٹو کی یکجہتی اور ان کے والہانہ لگائو اور حمایت کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے مارکس اینڈ سپنسر سے خریداری اس لیے بند کر دی تھی کہ یہ سٹور یہودیوں کی ملکیت تھا ۔
جلاوطنی کے دوران ان کی سیاسی مصروفیات ہمیشہ جاری رہیں۔ دبئی میں سیاسی سرگرمیوں پر اگرچہ پابندی تھی ‘ تاہم پارٹی راہنما اور کارکن خیریت معلوم کرنے اور سماجی نوعیت کے پروگراموں کی آڑ میں ان سے ملاقات کیا کرتے اور وہ اپنے کارکنوں کو پارٹی کے جملہ امور کے بارے میں ہدایات دیا کرتی تھیں۔ محترمہ بے نظیر شہید جب بھی امریکہ یا برطانیہ لیکچر دینے کے لیے جاتیں تو وہاں کے حکومتی اداروں اور سربراہوں سے بھی ملاقات کیا کرتیں اور پاکستان میں جمہوری جدوجہد کے بارے میں انہیں آگاہ کرتی تھیں۔ ان میں امریکی کانگریس اور سینیٹ کے ارکان کے علاوہ میڈیا پرسنز بھی شامل تھے۔ تاہم عام طور پر ان ملاقاتوں کی تشہیر نہیں کی جاتی تھی کیونکہ وہ ان ملاقاتوں کو عام نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ ان کے نزدیک کامیابی کے لیے رازداری لازمی ہے۔2003ء میں انہوں نے دہلی کا دورہ کیا تو بھارتی وزیراعظم واجپائی نے محترمہ بے نظیر شہید سے اپنے پاکستان کے دورہ کے بارے میں مشورہ کیا۔ میں نے اپنے آرٹیکل میں اس کا ذکر کیا تو محترمہ بے نظیر نے کہا کہ نجی گفتگو کا ذکر حذف کر دو کیونکہ یہ سفارتی آداب کے منافی ہے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے جلاوطنی کے دوران مختلف عالمی تنظیموں اور حکومتوں سے بھی رابطے قائم رکھے اور مغربی ممالک میں سیاسی اور جمہوری سرگرمیوں کے ذریعے روابط مضبوط کیے۔ انہوں نے ہر جگہ جمہوری مؤقف پیش کیا۔ اس کا یہ اثرا یہ ہوا کہ برطانیہ اور امریکہ سمیت یورپی ممالک میں یہ احساس اجاگر ہوا کہ پرویز مشرف کو ملک میں عوامی پذیرائی حاصل نہیں ۔اس طرح یہ رائے ہموار ہوئی کہ پاکستان میں سیاسی قوتوں کو مضبوط کیا جائے‘کیونکہ ان نازک حالات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا اہم کردار ضروری ہے ‘مگر یہ جنگ عوام کی حمایت کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی‘ اس لیے محترمہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی کو ضروری سمجھا گیا کیونکہ ان کی سیاسی پارٹی کی جڑیں پورے پاکستان میں ہیں اور وہ ایک ہردلعزیز اور دوراندیش راہنما ہیں۔
یہ 2005ء کا ذکر ہے ‘ جنوبی ایشیا کی انچارج ایک اہم امریکی عہدیدار کسی کانفرنس کے سلسلے میں دبئی آئی تھیں۔ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ نے محترمہ بے نظیر بھٹو سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔محترمہ نے انہیں ڈنر پر مدعو کر لیا۔ بات چیت کے دوران اُس امریکی عہدیدار نے کہا کہ پرویز مشرف مزید دس سال تک برسراقتدار رہیں گے‘اُس وقت تک آپ کی عمر ساٹھ سال ہو گی ‘لہٰذا آپ سیاست کی بجائے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن بن جائیں۔ یہ سن کر محترمہ بے نظیر بھٹو نے جواب دیا :ہم نے اتنے سال جمہوری جدوجہد اقوامِ متحدہ کے کسی عہدے کے لیے نہیں کی ‘ میں مناسب موقع پر ہر صورت میں پاکستان واپسی جائوں گی اورواپس جا کر ملک اور عوام کی خدمت کروں گی جنہوں نے میری خاطر جیلیں کاٹی ہیں‘ مظالم برداشت کیے ہیں ‘ میں کسی صورت ان کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی‘ یہی میری پہلی اور آخری ترجیح ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کا یہ مؤقف سن کراُس اعلیٰ امریکی عہدیدار نے گفتگو کا رخ دیگر معاملات کی طرف موڑ دیا۔ درحقیقت پاکستان پیپلزپارٹی کی سیاسی بقا بھی اسی میں تھی کہ انتخابات میں حصہ لے کر الیکشن جیتا جائے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ذہن میں یہ خدشہ موجود تھا کہ پاکستان واپسی کی صورت میں انہیں کئی قسم کے خطرات درپیش ہو سکتے ہیں اور انہیں قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ پرویز مشرف نے محترمہ بے نظیر کو سکیورٹی فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور مُصر تھے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرمین کو واپس نہیں آنے دیا جائے گا۔
2002ء میں انتخابات ہوئے تو نتائج کچھ اس طرح سے آئے تھے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے بغیر حکومت نہیں بن سکتی تھی‘ اس صورت ِحال میں پارٹی کے کچھ ارکان پرویز مشرف سے مل گئے اور قدرتی طور پر محترمہ کو اس سے بہت دھچکا لگا تھا۔ 2008ء کے انتخابات میں پھر اسی بات کا خدشہ تھا کہ اپنی راہنما کی عدم موجودگی میں پھر وہی تاریخ دہرائی جاتی اور جیت کی صورت میں پرویز مشرف انہیں اپنے ساتھ ملا لیتے اور یوں پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ‘لہٰذا محترمہ بے نظیر نے سیاسی فراست سے کام لیا اور پاکستان واپس آ کر انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ یوں انہوں نے اپنی جان کو درپیش خطرات کو نظرانداز کرکے اپنے والدِ محترم ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی وارث ہونے کا حق ادا کر دیا اور پاکستان کی خاطر اپنی جان دے دی۔
جن قوتوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی جدوجہد کے دنوں میں آزادی چھینی تھی‘ انہی قوتوں نے ان کی زندگی بھی چھین لی‘ اس کے باوجود بی بی شہید کا نام وقت کے ساتھ درخشاں ستارے کی مانند پاکستان کے سیاسی اُفق پر چمک رہا ہے اور آج بلاول بھٹو زرداری اپنی شہید والدہ کا پرچم تھامے ان کے مشن کی تکمیل کے لیے عملی سیاست میں متحرک ہیں اور اپنے نانا قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کی میراث پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کر رہے ہیں.

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply

Please Login to comment
  Subscribe  
Notify of
%d bloggers like this: