قائد عوام, زندہ ہے, بھٹو زندہ ہے…جمہوریت اور مساوی حقوق کے لئے جدوجہد کا سب سے بڑا آئیکن | تحریر نوشین پطرس

تحریر : نوشین پطرس

پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی اورپاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم شہید ذوالفقارعلی بھٹو کی 93 ویں سالگرہ آج منائی جارہی ہے، پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام ملک بھر میں کیک کاٹنے کی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک میں جمہوریت اور مساوی حقوق کے لئے جدوجہد کا سب سے بڑا آئیکن اور بنیاد رکھنے والے ہیں۔ ۔

چئیرمین نے قائد عوام کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ عوام نے سقوطِ ڈھاکا کے بعد پاکستان کے ٹوٹے پھوٹے ٹکڑوں کو اٹھایا اور سیاسی طور پر مایوس عوام میں نئی روح پھونک کر ملک کے بانی اجداد کے خواب کو نئی جِلا بخشی۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے نہ صرف اپنے سیاسی و سفارتی تدبر کے ذریعے دشمن سے 90 ہزار جنگی قیدیوں کو رہا کروایا اور ہزاروں مربع کلومیٹر زمین کو واگذار کروایا بلکہ مستقبل میں اس طرح کی نقصان کو دوبارہ ہونے سے ملک کو بچانے کے لئے انہوں نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد بھی رکھی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی ان کاوشون و منصوبوں کو فراموش نہیں کرسکتا، جن کے ذریعے انہوں نے مائیکرو خواہ میکرو صنعت کو فروغ دے کر ملک کی معیشت کو مضبوط بنایا، تعلیم ادارے قائم کیئے، متفقہ آئین دیا اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کو سیاسی طور بااختیار بنایا۔ یہ وہ عظیم کارنامے ہیں جن کی کوئی ںظیر نہیں.

شہید بھٹو کی سیاست عوامی تھی، اور عوامی راج کے لئے تھی۔ انہیں کی قائدانہ صلاحتیوں سے سیاست ڈرائینگ رومز سے نکلی، چوکوں چوراہوں میں پہنچی، جمہوریت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا، آئین بنا، عوامی منصوبے بنے، عوام کو اقتدار اور وسائل میں حصہ ملا۔ ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک تاریخ ساز شخصیت تھے۔ جنہوں نے اپنی زندگی آمریت کے خلاف جدوجہدٴ جمہوریت کی بحالیٴ عوام کی خدمت ان کی فلاح و بہبود اور پاکستان کو دنیا کے نقشہ پر ایک با وقار اور اہم ترین مقام دلانے کے لئے صرف کی۔ پی پی پی کے سابق جنرل سیکرٹری جہانگیر بدر لکھتے ہیںٴ چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک موہنجو ڈارو کی سر زمین لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ پاکستانی سیاست کی ایک روایت کے مطابق انہوں نے پاکستان میں پہلی مرتبہ نچلے طبقات کے لئے سیاست کے دروازے کھول دیئے انہوں نے عوام میں بنیادی حقوق کا شعور اور حقیقی مسادات و آزادی کی محبت پیدا کی اپنی جدوجہد کے نتیجے میں وہ پاکستانی سیاست کی ماہیت و کیفیت میں انقلابی تبدیلیاں رونما کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے سیاست کے پرانے جاگیرداری کلچر کو عوامی بنادیاٴ یعنی عوامی سیاست عوام کے ذریعےٴ عوام کے لئے یہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے۔ ان سے پہلے پاکستان میں ایسے کسی تصور کا وجود نہیں تھا۔

شہید بھٹو نے نظریاتی اور عملی اعتبار سے عوامی سیاست کی بنیاد رکھی۔ شہید بھٹو نے تمام مکتبہ فکرٴ تمام طبقات اور تمام انسانوں کو عزت و احترام دیاٴ خصوصاً انہوں نے طالب علم رہنمائوںٴ وکلا برادری مختلف بار کونسلوں کے عہدیداروں مزدوروں کسانوںٴ اقلیتوں کو وہ عزت و احترام دیا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے قافلے میں جوق در جوق شامل ہونے لگے۔ شہید بھٹو کی عوامی سیاست کے سامنے اسٹیٹس کو کی قوتیں بے بس ہوگئیں تھیں شہید بھٹو نے پارٹی پروگرامٴ اپنے نظریات و خیالات کو بڑی سادگی وضاحت اور عوامی انداز میں پیش کیا۔ جس کے نتیجے میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے انہیں بے پناہ تائید و حمایت حاصل ہوئی۔ شہید بھٹو نے خاص طور پر نوجوان نسل کو قیادت کے لئے ابھاراٴ انہیں پارٹیٴ اور بعد میں حکومت میں اہم عہدوں پر فائز کیا۔ نوجوان لیڈروں کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک اہم سیشن میں شرکت کے لئے بھیجا۔ شہید بھٹو نے سیاست کے پرانے روایتی فرسودہ کلچر کو دفن کرکے ایک نئے سیاسی کلچر کی بنیاد رکھیٴ جس میں ووٹ کی طاقت غریب طبقات کے ہاتھ میں تھی یہ اصول آج پاکستان کی سیاست میں تسلیم کئے جاچکے ہیں۔ شہید بھٹو نے جس عوامی سیاسی کلچر کو معاشرے میں روشناس کروایا۔ اس میں ایک جاگیردار اور امیر کبیر سیاسی امیدوار کو بھی ووٹ کے لئے غریب کے گھر جانا پڑتا ہےٴ بھٹو ازم نے ایک باقاعدہ مسلک کے طور پر فروغ پایا۔ جس کا اہم سبب جمہوریت کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی کی جدوجہد اور بھٹو خاندان کی قربانیاں ہیں۔ بھٹو اور پیپلز پارٹی پاکستان میں جمہوریتٴ وفاقٴ انسانی آزادیٴ عوام کے عزت و وقار کی بحالی کے لئے جدوجہد کی سب سے بڑی علامت بن چکی ہے۔ شہید بھٹو نے پاکستانی روایتی سیاست کو ڈرائینگ روم اور اخباری بیانات سے نکال کر عوام کے ساتھ سڑکوں اور گلیوں میں لے آئے۔ وہ کہتے تھےٴ ایک بھٹو میں ہوںٴ اور دوسرا بھٹو آپٟ عوامٞ ہیں۔ بھٹو اور عوام میں کوئی فرق نہیں ۔
پاکستان کے سیاسی افق پر شہید ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی بادل کی گرج اور بجلی کی کڑک بن کر ظاہر ہوئے تھےٴ اس کی قیادت کے اعلیٰ کردار اور پارٹی کے عوامی منشور نے ہر طبقہ فکر کو متاثر کیا۔ پی پی پی میں سول سوسائٹی کا ایک بڑا قافلہ جوق در جوق شامل ہوا طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقہ اس کا ہر اول دستہ بنا وکلا برادریٴ ٹریڈ یونینٴ مزدوروںٴ کسانوںٴ شاعروںٴ دانشوروںٴ ادیبوں اور آرٹسٹوں نے پارٹی کو مضبوطی بخش۔ اس عوامی قوت کے آگے تمام آمر اور ان کی سرکاری جماعتیں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئیںٴ فرسودہ نظام کی گرہیں کھل گئیںٴ فوجی حکومتٴ وڈیرہ ازم صنعتی اجارہ داریاں اور سول ملٹری بیورو کریسی کاظالم اندھیرا ختم اور حقیقی جمہوریت کا سورج طلوع ہونے لگا۔
شہید بھٹو نے اپنی شاندار خداداد صلاحیتوں کی بدولت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی اقوام کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا آغاز کرنے سے قبل انہوں نے عوام کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط کیا جس کے لئے وہ سب سے پہلے اقتدار کی مسند کو ٹھوکر مار کر عوام کی صفوں میں آگئے تھے اور ایوب کی فوجی آمریت کے خلاف ایک عوامی تحریک کا آغاز کرکے ایک تاریخی جدوجہد کرتے ہوئے اس ملک کو پارلیمانی جمہوریت اور متفقہ آئین کا تحفہ دیاٴ اور عوام کو جمہوریت کے تصور سے روشناس کروایا۔
انہوں نے ملک سے مارشل لا اٹھایاٴ تاریخ ساز شملہ معاہدہ کیاٴ پہلے ایٹمی ریکٹر کا افتتاح کیاٴ پاکستان کے مقبوضہ علاقے بھارت سے واگزار کروائےٴ بھارت سے جنگی قیدیوں کی واپسی کا معاہدہ کیاٴ شہید بھٹو کی بدولت پاکستان سلامتی کونسل کا رکن بناٴ قائد عوام نے بین الاقوامی انرجی کمیشن سے فرانس سے پلانٹ حاصل کرنے کی اجازت لیٴ نیو کلیئر ری پراسیسنگ پلانٹ حاصل کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے۔ شہید بھٹو کو تیسری دنیا کے 77 ممالک نے ان کی فہم و فراست کا یہ تحفہ دیا کہ پاکستان تیسری دنیا کا چیئرمین بنا۔ مزید برآںٴ بین الاقوامی میڈیا اور اداروں نے بھی شہید بھٹو کی عظمت کو انتہائی خراج تحسین پیش کیا ہےٴ نیویارک ٹائمز کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے مختصر عرصے میں پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک آزاد جمہوری ملک کا روپ عطا کردیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو مزاج کے لحاظ سے عقلی اور سیاسی اعتبار سے ان جرنیلوں پر فوقیت حاصل ہےٴ جو ملک پر حکمرانی کررہے تھےٴ ان تمام ابتدائی داخلی اور خارجی پالیسیوں کے اقدامات نے اس حقیقت کی تصدیق کردی۔ نیوز ویک نے ان الفاظ میں شہید بھٹو کو خراج تحسین پیش کیاٴ آنے والے دنوں میں ذوالفقار علی بھٹو ہی پاکستان کی بڑی امید ہیں۔
شہید بھٹو نے جمہوریتٴ وفاقیت کی مضبوطی اور عوامی نمائندہ اداروں کی بالادستی کی جو جنگ لڑی ہےٴ اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا انہوں نے عوام اور جمہوریت کا نیا اسلوب عوام کو دیا ہے انہوں نے عوام کو ان کے حقوق سے روشناس کروایاٴ جس سے ان میں ایک نیا جوش و خروش ایک نیا ولولہٴ ایک نئی بصیرت اور قیادت کا نیا تصور پیدا ہواٴ شہید بھٹو نے جو طرز سیاست دیا تھاٴ آج بھی ان کے پیرو کار آصف علی زرداری کی قیادت میں انہیں اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے آئینی پارلیمانی بالادستیٴ وفاقیت کی مضبوطی اور جمہوریت کے استحکام کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔
پانچ جولائی1977 کو جنرل ضیائ الحق نے جمہوری آئینی حکومت کو برطرف کرکے ملک میں مارشل لائ نافذ کردیاٴ بیگم نصرت بھٹوٴٴ یادیں اور یادیںٴٴ میں شہید بھٹو کے عزم جراتٴ اور استقامت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں جب عدالت نے ان کے لئے سزائے موت کا حکم جاری کردیا تو میں ان کے لئے رحم کی اپیل داخل کرنا چاہتی تھیٴ مگر انہوں نے کہاٴٴ اگر تم نے ایسا کیاٴ اور ضیائ نے مجھے رہا کردیاٴ تو میں عوام کے سامنے کیا منہ لے کر جائوں گاٴ میں قسم کھاتا ہوں کہ میں اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لوں گاٴ لہٰذا رحم کی اپیل دائر نہ کی گئی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو اپنے حق اور جمہوریت کے موقف پر ڈٹے رہا۔ شہید بھٹو کو 4 اپریل کو صبح سویرے منہ اندھیرے پھانسی دے دی گئی مگر انہوں نے حق و سچ اور عوامی حقیقی جمہوریت کے لئے آمروں کے خلاف جو آواز بلند کی تھیٴ وہ آج بھی زندہ ہےٴ بھٹو ایک زندہ تحریک کا نام ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداریٴ سابق صدر مملکت اورکوچیئرمین آصف علی زرداری کی قیادت میں پی پی پی شہید بھٹو کے فلسفہ پر چلتے ہوئے جمہوریت کے خلاف ہر طرح کے چیلنجز اور بحرانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کررہی ہے۔
آج شہید بھٹو اور شہید بی بی کا علم اٹھائے بلاول بھٹو عوامی سیاست کررہے ہیں، اور ہمیں یہ قوی امید ہے کہ اُن کی قیادت میں پاکستان میں سلیکیٹیڈ کٹھ پتلیوں کا یہ ظالمانہ کھیل ختم ہوگا، اور ایک بار پھر عوامی راج قائم ہوگا۔

چئیرمین بلاول بھٹو نے درست کہا ہے کہ جو قائدِ عوام نے اپنی نصف صدی پر مبنی زندگی کے دوران ملک کے لیئے جو کچھ کیا اس کی قائداعظم کے بعد کے پاکستان میں کوئی نظیر نہیں ہے، جس کی پاداش میں ملک اور اس کے جمہوری نطام کے دشمنوں نے اسے عدلیہ کے ذریعہ قتل کرادیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آمر ضیا کی باقیات خواہ اس کے حواریوں کی دہونس دھمکیوں، رکاوٹوں، انتقامی کاروایوں اور ظلم و جبر کے باوجود شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مشن کو پایئہ تکمیل پر پہنچانے کے لیئے ان کی پیروی کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کو اگے بڑھائے گی۔ پی پی پی چیئرمین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے اجداد کی میراث کو جاری رکھیں گے اور ہر قیمت پر اپنی عوام اور ان کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply

Please Login to comment
  Subscribe  
Notify of
%d bloggers like this: