کٹھ پتلی اب جا رہے ہیں، اُن کی حکومت ختم ہو رہی ہے: بلاول بھٹو زرداری

کراچی (05 جنوری 2021) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ
کٹھ پتلی اب جا رہے ہیں، اُن کی حکومت ختم ہو رہی ہے۔ کراچی میں ضلع کورنگی کے علاقے میں پیپلز اسکوائر کی طرز پر فشرمین چورنگی کے عوامی منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ ان کی جماعت کے منتخب نمائندے عوام کے حقیقی نمائندے ہیں، جو دکھ سکھ میں عوام کے ساتھ ہوتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ غلط طریقے سے آدمشماری ہوگی تو اس پر اعتراض بھی اٹھیں گے، اور اس معاملے پر پیپلز پارٹی پہلے دن سے ہر فورم پر مزاحمت کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کے اتحادیوں سمیت ان تمام جماعتوں سے بھی رابطے کر رہے ہیں جو عوامی سطح پر اِس معاملے پر اعتراضات اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا موجودہ حکومت کے ساتھ رہنا، ان کے اپنے ووٹرز کی ڈمانڈ نہیں ہے، لیکن نہیں پتا وہ کونسی مجبوری ہے کہ ایم کیو ایم والے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم کراچی میں پیدا ہوئے ہیں، یہاں رہتے ہیں اور کراچی کو اون بھی کرتے ہیں۔ اس شہر کے انفرااسٹرکچر اور اس کی ترقی کے لیئے جتنا کام پیپلز پارٹی نے کیا ہے، اور کسی نے نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میری پیدائش سے بھی پہلے سے ایم کیو ایم اور اب پی ٹی آئی والے یہاں سے “سلیکٹ” ہوتے ہیں، ان سے پوچھنا چاہیئے کہ انہوں نے کورنگی وغیرہ جیسے علاقوں کے لیئے کیا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے مثبت کاموں کو رپورٹ نہیں کرتا۔ کراچی پر ہمارا فوکس ہے، اور معاشی مشکلات کے باوجود ہم ہر جگہ پہنچ رہے ہیں۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ “روم ایک دن میں تعمیر نہیں ہوا تھا”، اسی کے مصداق کراچی کے تمام مسائل فوراً حل نہیں ہو سکتے، لیکن ہم یہاں شہریوں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کے لیئے دن رات کام کر رہے ہیں۔ پی پی چیئرمین نے نشاندھی کی کہ حکومتِ سندھ کی اپنی آمدنی پیدا کرنے کی کارکردگی دیگر صوبوں سے بہت بہتر ہے۔ حکومتِ سندھ نے ایسے بہت سارے منصوبوں پر کام کیا ہے، جو چمک دمک نہیں رکھتے، لیکن ان کی افادیت بڑی ہے۔ نیبر ہوڈ منصوبے کے تحت صوبائی حکومت کی جانب سے پینے کے پانی اور ڈرینیج لائینز کا زیرِ زمین لائینز کا کام بہت قابلِ تحسین ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جزائر پر قبضے کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی ماہیگیروں کی آواز بن کر کھڑی رہی ہے اور اب وفاقی حکومت کا ناجائز صدارتی آرڈیننس ختم ہوچکا ہے۔ یہ جزائر یہاں کے مقامی ماہیگیروں کے ہیں۔ جب تک اس دھرتی کے لوگوں کے خدشات دور اور انہیں مطئمن نہیں کیا جاتا، ہم ان جزائر پر ایک اینٹ بھی لگانے نہیں دیں گے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ ماہیگیر قیامِ پاکستان سے بھی پہلے سے کراچی میں آباد ہیں، جو اب ہر طرف سے گھیرے و دباوَ کا شکار ہیں۔ وہ سمندر میں بھی جاتے ہیں، تو انہیں تنگ کیا جاتا ہے۔ حکومتِ سندھ اس معاملے پر کام کر رہی اور مِل جُل کر اس کا حل بھی نکالا جائے گا، لیکن ماہیگیروں کی عزت و احترام کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔ دریں اثناء، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اِس وقت مخالفین میٹنگز طلب کر کے اس میں منصوبے بناتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی کس طرح برائیاں کرنی ہیں، جو عوام کے لیئے بہت کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران سندھ کو اس کے جائز حصے سے 63 ارب روپے کم دیئے ہیں۔ اس موقعے پر صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی، سہیل انور سیال اور شہلا رضا، وزیراعلیٰ کے مشیر مرتضیٰ وہاب ، اسپیشل اسسٹنٹ وقار مہدی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply

Please Login to comment
  Subscribe  
Notify of
%d bloggers like this: