چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان میں میڈیا پر عائد اعلانیہ و غیر اعلانیہ پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے دھونس دھمکیوں اور دباؤ جیسے ہتھکنڈوں کے ذریعے آزادیِ صحافت کو پابندِ سلاسل کیا ہوا ہے

اسلام آباد / کراچی (3 مئی 2021) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان میں میڈیا پر عائد اعلانیہ و غیر اعلانیہ پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے دھونس دھمکیوں اور دباؤ جیسے ہتھکنڈوں کے ذریعے آزادیِ صحافت کو پابندِ سلاسل کیا ہوا ہے۔ آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ اپنے پیغام میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ عمران خان کی زیرقیادت پی ٹی آئی حکومت نے ہر شعبے میں اپنی ناجائزیوں، نااہلی اور سراسر ناکامیوں کو چھپانے کے لئے میڈیا کا گلا دبایا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متعدد غیرجانبدار صحافیوں اور اینکرپرسن کو زبردستی ٹی وی اسکرینز سے ہٹایا گیا ہے، جب سے وہ اپنے غیرجانبدارانہ تجزیے اور تبصرے سوشل میڈیا پر کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پریس کی آزادی کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ صفِ اول میں رہی ہے اور سابق وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دورِ حکومت میں ان کالے قوانین کا خاتمہ کیا تھا، جو ضیاء کی آمرانہ حکومت نے صحافت پر لاگو کیئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آزاد میڈیا کو دبانا، قوم کو شدید نقصان پہنچانا ہے اور یہ عمل عوام کے جائز غصے اور مایوسی کے شعلوں پر مزید تیل چھڑکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزادی صحافت ایک متحرک معاشرے و جمہوریت کا کلیدی حصہ ہوتا ہی، جو عوام کی آواز بنتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام تر سنسرشپ، بشمول خود ساختہ سنسرشپ کے جو خفیہ خطرات کے ذریعے عائد ہے، کا خاتمہ کیا جائے اور میڈیا کو ایک آزاد نگران کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ پی پی پی چیئرمین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کے دوران، پریس فریڈم انڈیکس پر پاکستان کی تنزلی ہوئی ہے اور وہ 180 ممالک کی فہرست میں 145 نمبر پر آگیا ہے۔ پریس فریڈم انڈیکس کے نام سے مرتب کی جانے والی فہرست رپورٹرز ودآوَٹ بارڈرز (آر ڈبلیو بی) کی جانب سے شائع کی گئی تھی، جو ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ہے، جو آزادیِ اظہار کے تحفظ کے لئے کام کرتی ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے عالمی یوم آزادی کے رواں برس کی تھیم، “انفارمیشن اے پبلک گوڈ”، کی مکمل تائید کی اور مطالبہ کیا کہ پاکستان میں اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف اسپانسرڈ میڈیا ٹرائلز کے دور کا خاتمہ کیا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد میڈیا پر پابندیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی اور صحافی برادری کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی اپنی تاریخ کو زندہ رکھے گی اور پاکستان پیپلز پارٹی تب تک سکھ کا سانس نہیں لے گی، جب تک پاکستان میں صحافت حقیقی معنوں میں خودمختار و آزاد نہیں ہوجاتی، جس طرح وہ کسی بھی ایک حقیقی جمہوری ملک میں ہوتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply

Please Login to comment
  Subscribe  
Notify of
%d bloggers like this: