منیجنگ ڈائریکٹر سسٹر برگیتہ المبی ایف جی اے ایڈلٹ ایجوکیشن ویلفئیر انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان اور فل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان کی مالیاتی حوالے سے فائنل اتھارٹی تھیں: تیمور سندھو

پریٹوریا: ایف جی اے ایڈلٹ ایجوکیشن ویلفئیر انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان اور فل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹس ٹھوس شواہد ہیں کہ منیجنگ ڈائریکٹر سسٹر برگیتہ المبی ایوینجیکل اور سوشل دونوں سائیڈز کی مالیاتی حوالے سے فائنل اتھارٹی تھیں ، اُن کے قتل کے بعد فل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان کے چیئرمین اور نام نہاد ترجمان نے تمام اختیارات اور ایف جی اے ایڈلٹ ایجوکیشن ویلفئیر انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے اثاثوں پر قبضہ اور ان کو غیر قانونی فروخت کرنے کی سازش کی، یہ کہنا ہے تیمور سندھو کا.

تیمور سندھو نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے 2005 کے ایف جی اے ایڈلٹ ایجوکیشن ویلفئیر انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان، فل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان اور ایف جی اے بائبل کالج کی آڈٹ رپورٹس کے تین پیپرز بھی شئیر کئےہیں. جس میں منیجنگ ڈائریکٹر سسٹر برگیتہ المبی نے تین مختلف افراد کے ساتھ تین مختلف آڈٹ رپورٹس یعنی فل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان ، فل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان اور ایف جی اے بائبل کالج آڈٹ رپورٹس پر دستخط کیےہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ منیجنگ ڈائریکٹر سسٹر برگیتہ المبی ایوینجیکل اور سوشل دونوں سائیڈز کی مالیاتی حوالے سے فائنل اتھارٹی تھیں، کیونکہ جس کا فنڈز اور فنانس پر اختیار ہوتا ہے، وہی باس ہوتا ہے.

تیمور سندھو نے یہ کہا کہ سسٹر برگیتہ المبی جن کا سازش کے زریعے قتل کردیا گیا تھا ہی کے پاس تمام مالیاتی اختیارات تھے، اور لیاقت مسیح قیصر، سمیت چئیرمین فنڈز کے لئے ان کے دفتر کے باہر بیٹھے رہتے تھے، سسٹر برگیتہ المبی اور فل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان کے ڈی فیکٹو چئیرمین لیاقت مسیح قیصر کے تعلقات کبھی بھی اچھے نہیں رہے تھے، بلکہ ہمیشہ ایک سرد جنگ کی سی کیفیت تھی، اس دوران لیاقت مسیح قیصر نے ایف جی اے ایڈلٹ ایجوکیشن ویلفئیر انسٹی ٹیوٹ کا دفتر اور بالخصوص فنانس ڈیپارٹمنٹ ایف جی اے بائبل کالج کی بلڈنگ میں منتقل کرنے کی سازش کی تاکہ فنڈز اور فنانس پر نظر کے سامنے رہے، اور آگے چل کر کسی موقع پر اس پر مکمل کنٹرول کرلیا جائے.

تیمور سندھو نے الزام لگایا ہے کہ بشام ہسپتال کی غیر قانونی فروخت کے بعد سسٹر برگیتہ المبی اور لیاقت مسیح قیصر کے تعلقات میں شدید تناوُ آگیا تھا، اور سسٹر برگیتہ کے قتل کے ایک ہفتہ قبل سسٹر برگیتہ المبی کے کمرے میں لیاقت مسیح قیصر کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا. سسٹر برگیتہ المبی کی سازش کے زریعے قتل کے بعد جب فل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان کے چئیرمین نے ایف جی اے ایڈلٹ ایجوکیشن ویلفئیر انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے دفاتر پروجیکٹس، اثاثوں پر غیر قانونی قبضہ کرلیا تو تمام بجٹ،مالیاتی اختیارات فل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان کے ڈی فیکٹو چئیرمین کے ہاتھ میں آگئے.

تیمور سندھو کا کہنا ہے کہ میں نے سسٹر برگیتہ المبی کی کاوشوں سے ایف جی اے ایڈلٹ ایجوکیشن ویلفئیر انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کی رجسٹریشن ری نیو کروانے کا عمل شروع کیا تھا. اس عمل میں سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے نثار احمد بھٹی بھی ہماری رہنمائی کررہے تھے. جس کے بعد مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا شروع ہوئیں، اور میری ذندگی کو شدید خطرات لاحق ہوگئے تھے. جیسے جیسے ری نیو کروانے کا عمل آگے بڑھنا شروع ہوا دھمکیوں کا سلسلہ بھی بڑھتا گیا، میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور پھر ایک دن فل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان کا اُس وقت کا ایگزیکٹو بورڈ مسلح لوگوں کے ساتھ میرے دفتر میں آیا مجھے ڈرایا دھمکایا. ان حالات میں میرے پاس ملک چھوڑ کر جنوبی افریقہ آنے کے کوئی اور راستہ نہیں بچا تھا، اور سسٹر برگیتہ نے مجھے ساوُتھ افریقہ بھیج دیا. میرے جانے کے بعد سسٹر برگیتہ اکیلی ہو گئی تھیں، اور شدید دباوُ میں تھیں، اسی اثنا میں اس قبضہ گروپ نے میرے بعد نرسنگ اینڈ مڈوائفری پراجیکٹ کے ڈائریکٹر کیپٹن ڈاکٹر شکیلہ جلال کے خلاف منصوبہ بنایا، اور اس کو غیر قانونی طور پر دفتر سے باہر نکلنے پر مجبور کیا گیا ، وہ اس دباوُ کو برداشت نہیں کر سکی اوریہی دباؤ سے اُن کو ہارٹ اٹیک ہوا، اور وہ بھی اس جہان فانی سے رخصت ہوگئیں. اس کے بعد تمام ڈائریکٹرز کو انسٹی ٹیوٹ کی بلڈنگ سے نکالنے کے بعد تمام پروجیکٹس بند کردئیے گے تھے.

یہ بھی پڑھیں: فل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان کے چئیرمین نے کس طرح سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کو دھوکا دیا؟ تیمور سندھو

سسٹر برگیتہ کے قتل کے بعدآخرکار ایف جی اے ٹیکنیکل سکول کی بلڈنگ سے تمام جونئیر سٹاف کو زبردستی عوبید فراز کے لیٹرز کے زریعے یہ کہہ کر نکال دیا گیا کہ یہ تمام پراجیکٹس بند کردئیے گئے ہیں، درحقیقت اس قبضہ مافیا، اور کرپٹ ٹولے کا واحد مقصد ایف جی اے ایڈلٹ ایجوکیشن ویلفیئر انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کی جائیدادوں اور اثاثوں کو فروخت کرکے اپنی ذاتی جائیدادیں بنانا ہے، اس کے پیچھےایک بڑی سازش اور مجرمانہ ذہنیت ہے.ان کا مقصد عوام کی فلاحی خدمات ہرگز نہیں ہے. بلکہ وہ اس سارے کھیل کے کرتا دھرتا فل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان کے ڈی فیکٹو چئیرمین لیاقت قیصر کے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں، تمام جائیدادیں اثاثے بیچ کر اپنی ذاتی جائیدادیں، اثاثے ملک کے اندر اور بیرون ملک بنانا چاہتے ہیں، لیاقت قیصر کے پاس ہالینڈ کی نیشنلٹی بھی ہے.

یہ بھی پڑھیں: سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ میں فراڈ کے زریعے جعلی دستاویزات جمع کروانے پر فل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان کے چئیرمین کیخلاف ایف آئی آر درج کی جائے: تیمور سندھو

تیمور سندھو نے مذید بتایا کہ میں نے سال 2005 میں فل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان کے ایگزیکٹو بورڈ کے اسی قبضہ گروپ کے خلاف حکم امتناعی لیا ہوا تھا ، جس میں استدعا کی گئی تھی کہ فل گاسپل اسمبلیز آف پاکستان کے ایگزیکٹو بورڈ کو فراڈ اور جعل سازی کے زریعے ایف جی اے ایڈلٹ ایجوکیشن ویلفیئر انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان پر قبضے سے روکا جائے، اب ان کے مجرمانہ ارادے کی انہوں نے خود ہی تصدیق کردی ہے، جعلی اور بوگس دستاویزات سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ میں جمع کروا کر جس میں وہ فراڈ کے زریعے خود کو ایف جی اے ایڈلٹ ایجوکیشن ویلفیئر انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کا بورڈ بنا کر پیش کررہے ہیں، اس جعل سازی اور فراڈ پر حکومت اور اداروں کو ان ٹھگوں، قبضہ مافیا کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے، جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح لوگوں کو بے وقوف بناکر، اداروں کو غیر قانونی طور پر بیچ کر اندرون ملک اور بیرون ملک اثاثے بنا رہے ہیں.

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply

Please Login to comment
  Subscribe  
Notify of
%d bloggers like this: