اگلی حکومت جیالے بنائیں گے، کارکن اپنی جدوجہد تیز کریں: بلاول بھٹو زرداری

گھوٹکی (یکم ستمبر 2021) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگلی حکومت جیالے بنائیں گے، کارکن اپنی جدوجہد تیز کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک کے دیگر علاقوں کی خواتین کی بھی اس طرح ترقی دیکھنا چاہتی ہے، جس طرح ٹھٹہ، لاڑکانہ اور گھوٹکی کی خواتین اپنے پاوَں پر کھڑی ہیں۔ گھوٹکی میں سندھ رورل سپورٹ آرگنائیزیشن کے تحت ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین میں خواتین کو یقین دلاتا ہوں، پاکستان پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہے، بلاول بھٹو زرداری ان کے ساتھ ہے۔ وہ دن دور نہیں جب سندھ کے گوٹھوں کی خواتین وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر نثار کھوڑو کی جگہ لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ سندھ حکومت کی جانب سے شروع کیئے گئے پروگرامز میں سے سب سے پسندیدہ پروگرام کونسا ہے، تو میرا جواب ایس آر ایس او کا پروگرام ہے، پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام ہے۔ جو سندھ بھر میں ایک خاموش انقلاب لا رہا ہے۔ ایس آر ایس او کے تحت سندھ کے 13 لاکھ خاندان مستفید ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایس آر ایس او کے تحت ہونے والے گذشتہ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اس پروگرام کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھ سے میری والدہ کو تو چھین لیا گیا، لیکن اب میں پورے پاکستان کی خواتین میرے لیئے والدہ کا کرادر ہیں، میں0 ان کی اسی طرح خدمت کروں گا، جس ایک بیٹا اپنی ماں کی کرتا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قائدِ عوام کا دورِ حکومت ہو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور مردِ حر آصف علی زرداری کے ادوار ہوں، یا موجودہ حکومتِ سندھ، پی پی پی کی اولین ترجیح غربت سے مقابلہ رہا ہے۔ ہم اس ملک کی غریب عوام کی ترقیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ شہید محترمہ بینظر بھٹو نے ہمیں سکھایا ہے کہ اگر عورت ترقی کرے گی تو پورا گھر ترقی کرے گا، پورا گاوَں، پورا ضلع، پورا صوبا اور پورا ملک ترقی کرے گا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مردِ حر نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسا انقلابی پروگرام شروع کیا تھا۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ایک عورت کی مالی، روزگار، تعلیم اور صحت کے سلسلے میں مدد کی جاسکتی ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ میاں صاحب نے اپنے دور میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈ پر اپنی تصویر لگانا شروع کردی، اور خانصاحب کے دور میں کارڈ سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا نام ہٹا کر یہ سوچا کہ اس طرح وہ عوام کی دلوں سے شہید بی بی کا یاد مٹادیں گے، یہ ان کی بھول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو آج کل احساس احساس کہتے ہیں، انہیں درحقیقت احساس نہیں ہے کہ یہ عوام کتنی تکلیف میں ہیں، جو آپ کی تاریخی مہنگائی کی وجہ سے پاکستانی عوام مہنگائی سونامی میں ڈوب رہی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خانصاحب نے بھی پروگرام شروع کیا ہے، لیکن نقل کے لیئَے بھی عقل کی ضرورت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی جب حکومت بنائے گی تو ان پروگرامز کو بھتر طریقے سے چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان آج بھی احساس پروگرام کے تحت اسکالرشپس دے رہا تھا، لیکن اسے کسی نہیں بتایا ہی نہیں کہ احساس نام کی کوئی چیز ہے ہیں نہیں۔ یہ نہ بجٹ بُکس میں ہے، قانونسازی بھی نہیں ہے، اور بئنک اکاوَنٹس آج بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے چلتے ہیں۔ آج جو اسکالرشپس کا پروگرام رکھا تھا، وہ بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وسیلہ تعلیم پروگرام ہے۔ آپ نے کچھ بھی نیا شروع نہیں کیا، صرف اور صرف پاکستان پیپلز پارٹی کی نقل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ایس آر ایس او پروگرام کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے یورپی یونین نے بھی اس کے لیئے تعاون کیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 2018ع کے انتخابات سے قبل میں نے وزیراعلیٰ کو کہا تھا یہ میرے منشور کا وعدہ ہے کہ یہ پروگرام جو چند اضلاع میں چل رہا ہے، اس پورے صوبے میں لے کر جائیں گے، اور ایک دن اس پروگرام کو پورے پاکستان میں چلائیں گے۔ انہوں نے خواتین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں، وہ آپ کی زندگیاں تبدیل کردے گی۔ انہوں نے ایس آر ایس او پروگرام کے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام اس وقت 15 اضلاع میں چل رہا ہے، جس سے 13 لاکھ خاندان مستفید ہو رہے ہیں، کچھ کو بلاسود قرضے مل رہے ہیں، کچھ کو کم اخرجات سے تعمیر شدہ 20 ہزار سے زائد گھر بناکر دیئے گئے ہیں۔ اس پروگرام کت تحت 6 ہزار سے زائد افراد کو ہیلتھ انشورنس دیا گیا ہے۔ 18 ہزار سے زائد افراد کو کچن گارڈن کے تحت منصوبے سے مستفید ہوئے ہیں۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ یہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سوچ ہے کہ جب آپ غریب کو معاشی طور مستحکم بنائیں گے تو پورا معیشت مستحکم ہوگا، لیکن دیگر جماعتیں سمجھتی ہیں کہ جب امیروں کو اربوں و کھربوں روپے خرچ کیئے جائیں گے تو معیشت چلے گی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور حکومت و اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ سندھ بھر کی خواتین سیاست میں آگے آئیں۔ پی پی پی چیئرمین نے نوجوانوں اور خواتین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جلد ہی ملک میں مقامی انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جس کے لیے ان کی پارٹی نے یونین کونسل کی سطح تک خواتین اور نوجوانوں کے لیے مخصوص سیٹس کا اعلان کیا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ دیہات کی خواتین آگے آئیں۔ دریں اثنا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے دورے کے دوران پی پی پی ضلع گھوٹکی کے صدر بابر لونڈ کی رہائش گاہ بھی پہنچے، اور جمع ہونے والے ہزاروں جیالوں کو بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگلی حکومت جیالے بنائیں گے، کارکن اپنی جدوجہد تیز کریں۔ سندھ بھر میں احتجاجی مہم شروع ہورہی ہے، پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالوں کے سامنے یہ کٹھ پتلی کوئی چیز نہیں ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کہا کہ کارکن محنت کریں، کامیابی ان کے قدم چومے گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply

Please Login to comment
  Subscribe  
Notify of
%d bloggers like this: