یو اے ای کا معاشی،سیاسی اور سماجی ترقی کےلئے ’50 کے اصولوں’ کا اعلان

ابوظہبی : ۔۔ متحدہ عرب امارات نے آئندہ 50سالوں تک اپنے نئے معاشی،سیاسی اور سماجی ترقی کے نئے دور کےاسٹریٹجک روڈ میپ کووضع کرتے ہوئے ’50 کے منصوبوں’ کی مہم کے تحت’50 کے اصولوں’ کا اعلان کیاہے۔

ایسے وقت میں جب ملک اگلے50سالہ ترقی کے نئے دور میں داخل ہوا ہے،یہ 10اصول ملک کے تمام اداروں کے لئے رہنما کے طور پر کام کریں گے،جوصدر شیخ خلیفہ بن زاید آلنھیان کی ہدایات، متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم اور ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید آلنھیان کے تصور کے مطابق ہیں۔

شیخ خلیفہ بن زاید آلنھیان نے کہا کہ ہمارا واحد ، پائیدار مشن متحدہ عرب امارات کے شہریوں اور رہائشیوں کو ہر ممکن بہترین زندگی فراہم کرنا ہے۔ امن اور بات چیت پر مبنی ایک سیاسی سوچ کے ساتھ معیشت اگلے 50 سالوں تک متحدہ عرب امارات کے مستقبل کی راہنمائی کرے گی ۔
آئندہ مرحلے میں متحدہ عرب امارات کے تمام خطوں اور شعبوں کو جامع اور متوازن ترقی کے مواقع فراہم ہوں گے۔

شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہاکہ متحدہ عرب امارات میں ہر شخص ایک منزل ، ایک معیشت ، ایک پرچم ، ایک رہنما کے طور پر اگلے 50 سالوں میں اپنے اہداف کے حصول کے لیے ایک ٹیم کے طور پر کام کرے گا۔
شیخ محمد بن زاید نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے 10 اصول اگلے 50 سالوں کے لیے ہمارے تمام اداروں کے لیے یونین کو مضبوط بنانے ، پائیدار معیشت اور مزید خوشحال معاشرے کی تعمیر کے لیے تمام ممکنہ وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے بنیادی رہنمائی کا کام کریں گے ۔ قومی اہداف کے حصول اور دنیا بھر میں امن و استحکام کے لئے علاقائی اور عالمی تعلقات کا فروغ آئندہ مرحلے میں ہماری ترجیحات کا مرکز ہوں گے۔ 10 میں سے پہلے اصول کے تحت بنیادی قومی توجہ یونین ، اس کے اداروں ، مقننہ ، صلاحیتوں اور مالیات کے شعبوں کو مضبوط بنانے پر رہے گی۔

شہری اور دیہی معیشتوں کی ترقی امارات کے اتحاد کو مستحکم کرنے کا تیز ترین اور موثر ذریعہ ہے۔ دوسرے اصول کے تحت مستقبل میں دنیا کی بہترین اور متحرک معیشت تعمیر کی جائے گی۔ ملک کی معاشی ترقی اعلیٰ قومی مفاد اور تمام ریاستی ادارے ، تمام شعبوں اور مختلف وفاقی اور مقامی سطحوں پر ، بہترین عالمی معاشی ماحول کے قیام اور گزشتہ 50 سالوں میں حاصل کردہ فوائد کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ تیسرے اصول میں کہا گیا ہےکہ امارات کی خارجہ پالیسی کامقصد اعلیٰ قومی اہداف کی تکمیل کو یقینی بنانا ہے جن میں سے سب سے اہم امارات کے معاشی مفادات ہیں۔
سیاسی سوچ کا مقصد معیشت کی معاونت کرنا اور معیشت کا ہدف یونین کے لوگوں کو بہتر زندگی فراہم کرنا ہے۔ چوتھے اصول میں کہا گیا ہے کہ مستقبل کی ترقی کا بنیادی محرک انسانی سرمایہ ہے۔ تعلیمی نظام کی ترقی ، ٹیلنٹ کو بھرتی کرنا ، ماہرین کی مطلوبہ تعدادکو یقنی بنانا اور مسلسل مہارت میں اضافہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہو گا کہ امارات سب سے زیادہ مسابقت پر مبنی قومی معیشت بنے۔ پانچویں اصول میں کہا گیا ہے کہ اچھی ہمسائیگی استحکام کی بنیاد ہے۔خطے میں ملک کی جغرافیائی ، سماجی اور ثقافتی حیثیت اس کی سلامتی ، حفاظت اور مستقبل کی ترقی کے لیے دفاع کی پہلی لائن ہے۔ اپنے ہمسائیہ ممالک کے ساتھ مستحکم اور مثبت سیاسی ، معاشی اور سماجی تعلقات کا فروغ ملک کی خارجہ پالیسی کی سب سے اہم ترجیحات میں سے ایک ہے۔ چھٹے اصول کے مطابق عالمی سطح پر امارات کی ساکھ کو مستحکم کرنا تمام اداروں کا قومی مشن ہوگا۔ امارات کاروبار ، سیاحت ، صنعت ، سرمایہ کاری اور ثقافتی معیار کی ایک منزل ہے۔ قومی اداروں کو اپنی کوششوں کو یکجا کرتے ہوئےان کی مشترکہ صلاحیتوں سے باہمی فائدہ اٹھانا ہوگا ، اور امارات کے زیر سایہ عالمی کاروباری اداروں کی تعمیر کے لیے کام کرنا ہوگا۔ ساتویں اصول میں کہا گیا ہے کہ امارات کی ڈیجیٹل ، تکنیکی اور سائنسی مہارت اس کی ترقی اور معاشی سرحدوں کا تعین کرےگی۔ ٹیلنٹ ، کمپنیوں اور ان شعبوں میں سرمایہ کاری کے عالمی مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا اسے مستقبل کا عالمی رہنما بنائے گا۔ آٹھویں اصول میں قرار دیا گیا ہے کہ امارات میں بنیادی اقدار کا نظام کھلے پن ، رواداری ، حقوق کے تحفظ ، انصاف اور قانون کی حکمرانی پر مبنی رہے گا۔ امارات انسانی وقار کے تحفظ پر یقین کے ساتھ ساتھ ثقافتی تنوع کا احترام کرتا ہے اور قومی شناخت کے پائیدار احترام کے ساتھ انسانی برادری کی مضبوطی پر یقین رکھتا ہے۔

ملک اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعے امن ، کھلے پن اور انسانیت کو فروغ دینے والے تمام اقدامات ، وعدوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے معاونت کرتارہے گا۔ نویں اصول میں کہاگیا ہے کہ امارات کی غیر ملکی انسانی امداد محروم لوگوں کے لیے اس کے وژن اور اخلاقی فرض کا ایک لازمی حصہ ہے۔

امارات کی غیر ملکی انسانی امداد مذہب ، نسل ، رنگ یا ثقافت کی بنیادپر نہیں ہے۔ کسی بھی ملک کے ساتھ سیاسی اختلاف اس ملک کو آفات ، ہنگامی حالات اور بحرانوں میں ریلیف کی عدم فراہمی کا جواز نہیں بننا چاہیے۔ دسویں اصول میں واضح کیا گیا ہے کہ امن ، ہم آہنگی ، مذاکرات اور بات چیت ے ذریعے تمام تنازعات کا حل امارات کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔ علاقائی و عالمی امن اور استحکام کے قیام کے لیے علاقائی شراکت داروں اور عالمی دوستوں کے ساتھ کوشش کرنا امارات کی خارجہ پالیسی کا بنیادی محرک ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply

Please Login to comment
  Subscribe  
Notify of
%d bloggers like this: