موجودہ سلیکٹڈ حکومت ہو یا ماضی کی غیرجمہوری حکومتیں، خواندگی کا فروغ اُن کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا: بلاول بھٹو زرداری

کراچی / اسلام آباد (7 ستمبر 2021) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت ہو یا ماضی کی غیرجمہوری حکومتیں، خواندگی کا فروغ اُن کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کا تعلیم کے میدان میں صرف افغانستان سے آگے ہونا، لمحہ فکریہ ہے۔

عالمی یوم خواندگی کے موقعے پر میڈیا سیل بلاول ہاوَس سے جاری کردہ اپنے بیان میں پی پی پی چیئرمین نے پاکستان میں اسکول جانے کی عمر کے دو کروڑ سے زائد بچوں کا اسکول سے باہر ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ تعلیم ہر بچے کا حق ہے۔ ریاست کا یہ فرض ہے کہ تعلیم کو سب کے لیئے، خصاصاً بچیوں کے لیئے، یکساں طور پر قابلِ رسائی بنائے۔ کروناوائرس جیسی عالمی وباء کے بعد تعلیمِ بالغان اور غیر رسمی تعلیم جیسے پروگرامز کو جدید خطوط پر استوار کرنا حالات کا تقاضا ہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ایجنڈا خواندگی میں اضافہ نہیں، بلکہ اس کی توجہ کا محور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اور اس کے تحت وسیلہ تعلیم پروگرام کا نام تبدیل کرنا ہے۔

پی پی پی چیئرمین نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ادوار حکومت میں شعبہ تعلیم میں نمایاں و بنیادی اقدامات اٹھائے گئے۔ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ادوارِ حکومت ہوں، یا مردِ حر آصف علی زداری کی زیرقیادت عوامی حکومت، پاکستان میں سب سے زیادہ اسکول اور یونیورسٹیوں کا قیام ان ہی ادوار میں ہوا۔ سندھ کی عوامی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران اپنی بجیٹ میں سب سے زیادہ فنڈز 277.5 ارب روپے محکمہ تعلیم و خواندگی کے لیئے مختص کیئے ہیں۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تعلیم کا فروغ پاکستان پیپلز پارٹی کی ہمیشہ اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آئندہ الیکشن میں کامیاب ہوکر شرح خواندگی میں اضافے کے لیئے اپنی ان کاوشوں کو ازسرِ نو بحال کرے گی، جو گذشتہ 8 سالوں سے سردخانے کی نذر ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply

Please Login to comment
  Subscribe  
Notify of
%d bloggers like this: