جمعہ ،19 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

ٹیلی کام ترمیمی بل 2026: کیا ترقی کے نام پر عوامی حقوق، نجی ملکیت اور صحتِ عامہ کو قربان کیا جا رہا ہے؟

ٹیلی کام ترمیمی بل 2026: کیا ترقی کے نام پر عوامی حقوق، نجی ملکیت اور صحتِ عامہ کو قربان کیا جا رہا ہے؟

Editor

4 گھنٹے قبل

Voting Line

ٹیلی کام ترمیمی بل 2026: کیا ترقی کے نام پر عوامی حقوق، نجی ملکیت اور صحتِ عامہ کو قربان کیا جا رہا ہے؟

 
 
 
 
ڈاکٹر رضوان بھائیو
 
جمہوری معاشروں میں قانون سازی کا بنیادی مقصد عوامی مفاد کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور ریاستی اختیارات کو آئینی حدود کے اندر رکھنا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے ٹیلی کام ترمیمی بل 2026 نے ایسے ہی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے جن کا تعلق شہریوں کے حقِ ملکیت، عوامی صحت، مقامی خودمختاری اور آئینی آزادیوں سے ہے۔
 
اس بل کی بعض متنازع شقوں کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں کو نجی اور سرکاری املاک پر ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر اور ٹاورز نصب کرنے کے لیے غیر معمولی اختیارات دینے کی کوشش کی گئی۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ اگر کسی املاک کے مالک نے اپنی جائیداد پر ایسے ٹاورز کی تنصیب کی مخالفت کی یا اجازت دینے سے انکار کیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی اور بھاری مالی جرمانوں کی گنجائش بھی پیدا کی گئی، جس پر ملک بھر میں شدید تحفظات سامنے آئے ہیں۔
 
پاکستان پیپلز پارٹی نے ابتدا ہی سے ان شقوں کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ جدید ٹیلی کمیونیکیشن نظام کی توسیع ضروری ضرور ہے، لیکن یہ عمل عوام کے بنیادی حقوق اور آئینی تحفظات کو پامال کرکے نہیں ہونا چاہیے۔ سینیٹ میں اس معاملے کو اٹھا کر متنازع قانون سازی کو مزید جانچ کے لیے روکنا درحقیقت جمہوری نگرانی اور عوامی مفاد کے تحفظ کی ایک اہم مثال ہے۔
 
حقِ ملکیت اور آئینی تحفظات
 
پاکستان کا آئین شہریوں کے حقِ ملکیت کو بنیادی حقوق کا حصہ تسلیم کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 واضح طور پر ہر شہری کو اپنی جائیداد رکھنے، استعمال کرنے اور اس سے متعلق فیصلے کرنے کا حق دیتے ہیں۔ ریاست کسی بھی شہری کو اس کی جائیداد سے متعلق معاملات میں صرف قانون اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی پابند کر سکتی ہے۔
 
اگر کوئی قانون کسی شہری کو اپنی ہی ملکیت پر کسی نجی کمپنی کی تنصیبات قبول کرنے پر مجبور کرے، یا انکار کی صورت میں اسے بھاری جرمانوں اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے، تو یہ نہ صرف آئینی تحفظات بلکہ قدرتی انصاف (Natural Justice) کے بنیادی اصولوں پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔
 
جمہوریت میں ریاست کا کام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں طاقت اور جرمانوں کے ذریعے اپنی ملکیت کے استعمال پر مجبور کرنا۔
 
عوامی صحت اور احتیاطی اصول
 
ٹیلی کمیونیکیشن ٹیکنالوجی جدید دور کی ضرورت ہے اور اس کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ تاہم دنیا بھر میں صحتِ عامہ سے متعلق ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نئی ٹیکنالوجیز کی تنصیب اور توسیع کے دوران احتیاطی اصول (Precautionary Principle) کو مدنظر رکھا جائے۔
 
اگرچہ بین الاقوامی سطح پر موجود سائنسی تحقیقات میں موبائل اور 5G ٹیکنالوجی کے اثرات کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں، لیکن متعدد ماہرین اور عوامی صحت کے ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گنجان آباد رہائشی علاقوں، اسکولوں، ہسپتالوں اور حساس مقامات پر ٹاورز کی تنصیب سے قبل جامع ماحولیاتی اور صحت سے متعلق جائزہ لیا جائے۔
 
خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کے حوالے سے احتیاطی اقدامات اختیار کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی شہریوں کی رضامندی، ماحولیاتی جائزے اور صحت کے تحفظ کے اصولوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔
 
سماجی اور معاشرتی اثرات
 
کسی بھی قانون کی کامیابی صرف اس کی قانونی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کی عوامی قبولیت سے بھی وابستہ ہوتی ہے۔
 
اگر مقامی آبادی کی مرضی اور اعتماد کو نظرانداز کرتے ہوئے رہائشی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ٹاورز نصب کیے جائیں تو اس کے نتیجے میں:
 
- عوام اور کمپنیوں کے درمیان تنازعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
- جائیدادوں کی مارکیٹ ویلیو متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
- شہریوں کا ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے۔
- مقامی کمیونٹیز میں بے چینی اور احساسِ محرومی بڑھ سکتا ہے۔
- قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے درمیان غیر ضروری کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
 
یہ تمام عوامل کسی بھی جمہوری معاشرے میں سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
 
جرمانوں اور قانونی کارروائی کا مسئلہ
 
اس قانون کے حوالے سے سب سے زیادہ اعتراضات اس پہلو پر سامنے آئے ہیں کہ اگر کوئی شہری اپنی ملکیت پر ٹاور کی تنصیب کی مخالفت کرے تو اسے بھاری مالی جرمانوں اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
 
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا کسی شہری کو اپنی ملکیت کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرنے کے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے؟ کیا نجی جائیداد پر کسی کمپنی کی تنصیب قبول نہ کرنے کو جرم قرار دینا آئین کی روح سے مطابقت رکھتا ہے؟
 
اگر قانون سازی کا مقصد عوامی سہولت ہے تو اس کا راستہ رضامندی، شفافیت، مشاورت اور مناسب معاوضہ ہونا چاہیے، نہ کہ دباؤ، جرمانے اور قانونی دھمکیاں۔
 
پارلیمان کی ذمہ داری
 
پارلیمان صرف قوانین بنانے کا ادارہ نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کا محافظ بھی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ٹیلی کام ترمیمی بل 2026 کی تمام متنازع شقوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، ماہرینِ قانون، صحت اور شہری حقوق کے نمائندوں سے مشاورت کی جائے اور ایسا متوازن قانون بنایا جائے جو ترقی اور بنیادی حقوق کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔
 
پاکستان کو جدید ٹیلی کمیونیکیشن نظام کی ضرورت ہے، لیکن ترقی کا راستہ عوامی حقوق، آئینی آزادیوں اور صحتِ عامہ کے تحفظ سے ہو کر گزرنا چاہیے۔ اگر ترقی کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق کمزور کیے جائیں تو یہ نہ صرف آئین کی روح کے منافی ہوگا بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو بھی نقصان پہنچائے گا۔
 
جمہوریت کی اصل روح یہی ہے کہ ریاست طاقتور اداروں اور کارپوریشنز کے بجائے عوام کے حقوق کے ساتھ کھڑی ہو۔ قانون سازی کا معیار بھی یہی ہونا چاہیے کہ عوام محفوظ رہیں، آئین مضبوط ہو اور ترقی عوامی رضامندی کے ساتھ آگے بڑھے۔ 
 
پاکستان پیپلز پارٹی: عوامی حقوق کی محافظ جماعت
 
ٹیلی کام ترمیمی بل 2026 کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف محض سیاسی مخالفت نہیں بلکہ عوام کے آئینی، قانونی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کا تسلسل ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس جماعت نے ہمیشہ پارلیمان، آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی ہے۔
 
جب قومی اسمبلی میں اس بل کی متنازع شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تو پیپلز پارٹی نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مواصلاتی نظام کی توسیع ضروری ہے، لیکن عوام کے بنیادی حقوق، نجی ملکیت، مقامی آبادی کی رضامندی اور صحتِ عامہ کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
 
خاص طور پر جب یہ خدشات سامنے آئے کہ نجی املاک کے مالکان کو اپنی جائیداد پر ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے اور انکار کی صورت میں بھاری جرمانوں یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تو پیپلز پارٹی نے اسے شہری آزادیوں اور آئینی تحفظات کا معاملہ قرار دیا۔
 
سینیٹ میں اس بل پر اعتراضات اٹھانا اور اس کی مزید جانچ پڑتال کا مطالبہ کرنا درحقیقت عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم جمہوری اقدام تھا۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی اس اصول پر قائم ہے کہ قانون سازی کا مقصد عوام کو بااختیار بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں دباؤ اور جرمانوں کے ذریعے مجبور کرنا۔
 
پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ پاکستان کی ترقی، ڈیجیٹل انقلاب اور جدید مواصلاتی نظام کا سفر ضرور آگے بڑھنا چاہیے، لیکن یہ سفر آئینِ پاکستان، بنیادی انسانی حقوق، نجی ملکیت کے تحفظ اور صحتِ عامہ کے عالمی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
 
عوامی حقوق کے تحفظ کی یہ جدوجہد دراصل اس سیاسی فلسفے کا تسلسل ہے جس کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے رکھی تھی، اور جسے آج چیئرمین کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی آگے بڑھا رہی ہے۔
 
اگر کسی قانون میں عوام کے بنیادی حقوق، نجی ملکیت یا شہری آزادیوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ موجود ہو تو اس کی نشاندہی کرنا اور اس کی اصلاح کا مطالبہ کرنا ہی حقیقی جمہوری سیاست اور عوامی نمائندگی کا تقاضا ہے، اور یہی کردار پاکستان پیپلز پارٹی نے اس معاملے میں ادا کیا۔ 
 
نتیجہ: عوامی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں
 
ٹیلی کام ترمیمی بل 2026 محض ایک تکنیکی یا انتظامی قانون سازی نہیں بلکہ یہ عوام کے حقِ ملکیت، شہری آزادیوں، صحتِ عامہ اور آئینی تحفظات سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ کسی بھی جمہوری ریاست میں ترقیاتی منصوبوں اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کو عوامی حقوق اور آئینی حدود کے تابع ہونا چاہیے، نہ کہ ان پر غالب۔
 
اگر کسی قانون کے ذریعے شہریوں کو اپنی ہی جائیداد پر فیصلے کرنے کے حق سے محروم کیا جائے، انکار کی صورت میں بھاری جرمانوں اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے، اور مقامی آبادی کے تحفظات کو نظر انداز کیا جائے تو ایسی قانون سازی پر سوال اٹھانا ہر جمہوری قوت کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
 
پاکستان پیپلز پارٹی نے اس بل کی مخالفت کرکے ثابت کیا ہے کہ وہ آج بھی عوام کے بنیادی حقوق، آئین کی بالادستی، نجی ملکیت کے تحفظ اور صحتِ عامہ کے اصولوں کی محافظ جماعت ہے۔ سینیٹ میں اس بل پر اعتراضات اٹھانا اور متنازع شقوں کو بے نقاب کرنا درحقیقت کروڑوں پاکستانیوں کے آئینی حقوق کے دفاع کی ایک کوشش تھی۔
 
یہی وہ سیاسی فلسفہ ہے جس کی بنیاد قائدِ عوام نے رکھی، جسے شہید جمہوریت نے آگے بڑھایا اور جسے آج کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی عوامی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کے ذریعے جاری رکھے ہوئے ہے۔
 
پاکستان کو جدید ٹیلی کمیونیکیشن نظام بھی چاہیے اور ترقی بھی، لیکن ایسی ترقی جو آئین، جمہوریت، عوامی رضامندی اور بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق ہو۔ کیونکہ مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں قانون طاقتور اداروں کے لیے نہیں بلکہ عام شہری کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنایا جائے۔
 
پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے:
"ترقی ضرور، مگر عوام کے بنیادی حقوق، نجی ملکیت، آئینی آزادیوں اور صحتِ عامہ کے تحفظ کی قیمت پر نہیں۔"
Comments

No comments yet.

Effy Jewelry