ہفتہ ،13 جون 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

مایوسی کا بجٹ، بے سمت معیشت

مایوسی کا بجٹ، بے سمت معیشت

Editor

ایک گھنٹہ قبل

Voting Line

 

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ

 

وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا مالی سال 2026-27 کا بجٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بے یقینی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں قوم کو ایک ایسے بجٹ کی توقع تھی جو معیشت کو نئی سمت دیتا، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرتا اور عام آدمی کو کچھ ریلیف فراہم کرتا۔ مگر پیش کردہ بجٹ مجموعی طور پر ایک مایوس کن اور ناکام حکومت کا بجٹ محسوس ہوتا ہے جس کے پاس نہ معیشت کی بحالی کا کوئی واضح منصوبہ ہے اور نہ ہی ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کی کوئی جامع حکمت عملی۔ بجٹ کے اعداد و شمار سے زیادہ اہم حکومت کا وژن ہوتا ہے، اور بدقسمتی سے اس بجٹ میں وہ وژن دکھائی نہیں دیتا جس کی اس وقت ملک کو اشد ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ کے بعد عوامی سطح پر مایوسی اور ردعمل میں اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔

بجٹ کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح عوامی ریلیف یا معاشی سرگرمیوں کا فروغ نہیں بلکہ مالیاتی اہداف اور آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پر عمل درآمد دکھائی دیتا ہے۔ محصولات کے بلند اہداف مقرر کیے گئے ہیں مگر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر آمدنی بڑھائی جائے گی یا ایک بار پھر وہی طبقے اضافی بوجھ اٹھائیں گے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ، چھوٹے کاروباری افراد اور دستاویزی معیشت سے وابستہ لوگ پہلے ہی بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسے میں نئے مالیاتی اہداف یہ خدشہ پیدا کرتے ہیں کہ متوسط طبقہ مزید سکڑ جائے گا اور اس کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں محض سات فیصد اضافے کا فیصلہ بھی اسی مایوس کن سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران مہنگائی نے عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خوراک، بجلی، گیس، ایندھن، تعلیم، علاج اور رہائش کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، اس لیے ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ حقیقتاً کوئی مؤثر ریلیف نہیں۔ اسی طرح پنشنرز اور محدود آمدنی والے طبقات بھی اس بجٹ سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کرتے نظر نہیں آتے۔ حکومت نے اعداد و شمار کے ذریعے ریلیف کا تاثر دینے کی کوشش تو کی ہے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔

معاشی ترقی کا انحصار صنعت، سرمایہ کاری اور برآمدات پر ہوتا ہے، لیکن بجٹ میں ان شعبوں کے لیے بھی کوئی غیر معمولی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ صنعتی شعبہ گزشتہ کئی برسوں سے جمود کا شکار ہے۔ بلند پیداواری لاگت، مہنگی بجلی اور گیس، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی نے صنعتی سرگرمیوں کو محدود کر دیا ہے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ حکومت صنعت کے لیے ایک جامع پیکیج دے گی تاکہ پیداوار بڑھے، کارخانے فعال ہوں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں، مگر بجٹ اس حوالے سے خاموش دکھائی دیتا ہے۔ یہی صورتحال برآمدات کے شعبے کی بھی ہے۔ پاکستان کو زرمبادلہ کے حصول اور معاشی استحکام کے لیے برآمدات بڑھانے کی اشد ضرورت ہے، لیکن بجٹ میں ایسی کوئی بڑی پالیسی یا مراعات نظر نہیں آتیں جو برآمدی شعبے کو نئی زندگی دے سکیں۔

زراعت، جو پاکستان کی معیشت کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، بجٹ میں خاطر خواہ توجہ حاصل نہیں کر سکی۔ کسان پہلے ہی کھاد، بیج، زرعی ادویات، بجلی اور پانی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے ان کے مسائل مزید بڑھا دیے ہیں۔ اس کے باوجود بجٹ میں نہ کوئی بڑا زرعی پیکیج دیا گیا، نہ زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، آبپاشی اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں کوئی نمایاں پیش رفت دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لاکھوں افراد کا روزگار زراعت سے وابستہ ہو، اس شعبے کو نظر انداز کرنا معیشت کے ایک بنیادی ستون کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

اس بجٹ کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ قومی وسائل کا بڑا حصہ اب بھی قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت ابھی تک معیشت کو اس مقام تک نہیں لا سکی جہاں ترقیاتی اور پیداواری شعبوں پر زیادہ سرمایہ کاری کی جا سکے۔ جب بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں چلا جائے تو ترقیاتی منصوبوں، روزگار کے مواقع اور معاشی توسیع کے لیے گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب دفاعی اخراجات میں اضافہ اور ترقیاتی اخراجات کی نسبتاً محدود گنجائش بھی اسی مالی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ بجٹ عوام کو امید دینے کے بجائے مزید سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس میں نہ روزگار کے بحران سے نمٹنے کا کوئی واضح لائحہ عمل موجود ہے، نہ صنعت و زراعت کو بحال کرنے کی کوئی جامع حکمت عملی، نہ برآمدات میں اضافے کا کوئی مؤثر منصوبہ اور نہ ہی متوسط طبقے کے لیے کوئی خاطر خواہ ریلیف۔ بجٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ حکومت کی ترجیحات اور وژن کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے۔ افسوس کہ یہ بجٹ ایک ایسے معاشی وژن کی عکاسی کرتا ہے جو مسائل کے مستقل حل کے بجائے محض موجودہ بحران کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ قوم کو اس وقت بحران کے انتظام نہیں بلکہ معاشی بحالی کے واضح راستے کی ضرورت ہے۔

Comments

No comments yet.

Effy Jewelry