آزاد جموں و کشمیر کا بحران: وفاقی وزراء کی غیر ذمہ داری اور بلاول بھٹو زرداری کا مدبرانہ حل۔
آزاد جموں و کشمیر کا بحران: وفاقی وزراء کی غیر ذمہ داری اور بلاول بھٹو زرداری کا مدبرانہ حل۔
تحریر: ڈاکٹر رضوان بھیو
آزاد جموں و کشمیر اس وقت ایک حساس ترین سیاسی اور سماجی موڑ سے گزر رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب خطے کو مرہم رکھنے، عوامی شکایات کا ازالہ کرنے اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت تھی، وفاقی حکومت کے بعض وزراء کی جانب سے آنے والے بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اس پورے منظر نامے میں جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک زیرک اور مدبر ریاست کار (Statesman) کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی، وہاں مسلم لیگ (ن) کے چند رہنماؤں کے بیانات نے ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا۔
الیکشن کو متنازع بنانا اور رانا ثناء اللہ کا کردار
رانا ثناء اللہ کی جانب سے آزاد کشمیر کی 12 مخصوص نشستوں (مہاجرین کی نشستوں) کو براہِ راست اپنی "اجارہ داری" یا اپنی نشستیں قرار دینے کے تاثر نے کشمیری عوام میں شدید مایوسی اور غصے کو جنم دیا۔
کشمیر کا انتخابی عمل وہاں کے عوام کی صوابدید ہونا چاہیے۔ جب وفاق کا کوئی اہم عہدیدار مخصوص نشستوں کو پہلے سے طے شدہ یا اپنی ملکیت ظاہر کرتا ہے، تو اس سے پورے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑا ہو جاتا ہے۔
اس بیان نے جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کو، جو پہلے ہی حقوق کی تحریک چلا رہی تھی، یہ باور کرانے میں مدد دی کہ وفاق کشمیر کے سیاسی فیصلوں کو بلڈوز کرنا چاہتا ہے، جس سے احتجاج کی آگ مزید بھڑک اٹھی۔
بحران کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے راولا کوٹ اور دیگر علاقوں کے کشمیریوں کی شناخت یا ان کے احتجاج کے حوالے سے دیے گئے سخت بیانات نے جلتی آگ پر ہائی آکٹین کا کام کیا۔
آزاد کشمیر کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک لازوال قربانیاں دی ہیں۔ ان کی حب الوطنی یا ان کی مقامی شناخت پر کوئی بھی مبہم یا منفی تبصرہ تحریک کو مزید شدت پسندانہ رخ دے سکتا ہے۔
اس طرزِ عمل نے وفاق اور ریاستِ کشمیر کے عوام کے درمیان خلیج کو گہرا کیا اور عوامی ایکشن کمیٹی کے موقف کو عوامی سطح پر مزید پذیرائی ملی۔
جب ریاست پاکستان کی ساکھ اور کشمیر کا امن داؤ پر لگا ہوا تھا، تو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے روایتی سیاست سے بالاتر ہو کر ایک حقیقی رہنما کا ثبوت دیا۔ انہوں نے اس شورش کو ختم کرنے کے لیے ایک انتہائی مخلصانہ اور قابلِ عمل حل "ٹرتھ کمیشن" (سچائی کمیشن) بنانے کی شکل میں پیش کیا۔
تجویز کی اہمیت: یہ تجویز اس بات کا ثبوت تھی کہ بلاول بھٹو زرداری طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور حقائق کو سامنے لا کر کشمیریوں کے تحفظات دور کرنا چاہتے ہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ ایکشن کمیٹی اور شہباز شریف کی حکومت دونوں کی جانب سے اس سنجیدہ تجویز پر کوئی مثبت پیش رفت نہیں دکھائی گئی۔ الٹا، ن لیگ کی ممکنہ سیاسی شکست کو بھانپتے ہوئے رانا ثناء اللہ کو دوبارہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر بلاجواز اور اشتعال انگیز تنقید کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا، جو کہ کشمیر میں مفاہمت کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش نظر آتی ہے۔
کشمیر کا مسئلہ صرف ن لیگ یا پی پی پی کا نہیں، بلکہ پوری پاکستانی ریاست اور بقا کا مسئلہ ہے۔ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ
وزیر اعظم شہباز شریف کو فوری طور پر رانا ثناء اللہ اور خواجہ آصف جیسے وزراء کو کشمیر کے معاملات میں مداخلت سے روکنا چاہیے اور اس حساس معاملے کو براہِ راست اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے، تاکہ وفاق کی ساکھ کو مزید نقصان نہ پہنچے۔
بلاول بھٹو زرداری کی 'ٹرتھ کمیشن' اور مذاکرات کی تجویز پر فوری عمل درآمد کیا جائے تاکہ کشمیر کے عوام کو یہ پیغام جائے کہ اسلام آباد ان کے حقوق کا حقیقی محافظ ہے۔
اگر اب بھی وفاقی وزراء کے اشتعال انگیز بیانات کا نوٹس نہ لیا گیا، تو کشمیر کا سیاسی ماحول اس حد تک خراب ہو سکتا ہے جس کی تلافی مستقبل کے الیکشن یا کسی بھی سیاسی عمل سے ممکن نہیں ہوگی
No comments yet.